سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کریں گے،جنرل سید عامر رضا

پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں اور علاقے کے ہر حصے کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں

October 17, 2026 · قومی
سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کریں گے،جنرل سید عامر رضا

سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کریں گے،جنرل سید عامر رضا

ایبٹ آباد: کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں اور علاقے کے ہر حصے کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سید عامر رضا نے تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس اور ان کے والدین کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ نئے افسران کے کندھوں پر ملک کی سلامتی، وقار اور دفاع کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لیے انہیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ہر چیلنج کا مقابلہ حوصلے اور عزم کے ساتھ کرنا چاہیے۔

کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ نے کیڈٹس پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران دیانت داری، بہادری اور جرات کو اپنی قیادت کا بنیادی اصول بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی اور دفاع میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور قومی ذمہ داری کا احساس انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں خواتین کیڈٹس کی شرکت کو باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔

جنرل سید عامر رضا نے خطے کی حالیہ کشیدہ صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کو عالمی سطح پر دیکھا گیا۔

ملکی دفاع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے اور ملک کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہادر فوجی جوان ملک کی سلامتی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر بات کرتے ہوئے جنرل سید عامر رضا نے فلسطینی عوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل طلب معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کی اہمیت اجاگر کی۔