خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری میں لگائی، خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے تھے، شہباز شریف
فیصلہ ملکی مفاد میں کیا گیا، سیاسی محاذ آرائی نے معاملات کو خراب کیا، گوجرانوالہ میں خطاب
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری میں لگائی، خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے تھے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی مجبوری کے تحت نافذ کی گئی ہے کیونکہ صوبے میں جاری صورتحال پر خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھی جا سکتی تھی۔ انہوں نے مرحوم بشیر محمود ورک کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کے ساتھ ان کے برادرانہ تعلقات تھے اور سیاست کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
گوجرانوالہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نے صوبائی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی تھی اور وزرائے اعلیٰ کو مکمل وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم تعاون کے بجائے آئے روز لانگ مارچ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دھرنوں کے باعث پورے ملک کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور اس بار بھی مبینہ طور پر خون ریزی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے رات بھر بیٹھ کر بھرپور کوششیں کیں اور مذاکرات کے دوران لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر اتفاق بھی ہوا تھا، لیکن آخری وقت میں مسودے کو منظور کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پاکستان کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے اور امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔