س سعودی عرب میں مختلف مقدمات میں سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا
سخت اقدامات، پانچ مقامی شہریوں کو پھانسی، دو غیر ملکیوں کو بھی سزا دی گئی۔
سعودی عرب میں سزائے موت کے نفاذ کا ایک منظر۔
ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں مختلف نوعیت کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز پر حملوں، غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت اور دیگر سنگین الزامات کے تحت 5 سعودی شہریوں کو سزائے موت دی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مجرم قرار دیے گئے ان افراد پر ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم میں شمولیت، سکیورٹی فورسز، مراکز اور گاڑیوں پر ہتھیاروں اور دھماکا خیز مواد سے حملے کرنے کے جرائم ثابت ہوئے تھے۔ وزارتِ داخلہ کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ ان افراد کے جرائم میں اسلحہ اور گولہ بارود رکھنا، دہشت گرد کارروائیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا اور مملکت کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنا بھی شامل تھا۔ عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا، جس کے بعد شاہی حکم پر مشرقی صوبے میں سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔
دوسری جانب ایک الگ واقعے میں سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں 2 بنگلادیشی شہریوں کو بھی سزائے موت دے دی ہے۔ سرکاری دستاویزات اور وزارتِ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر نامی ان دونوں افراد کو گرفتار کر کے متعلقہ عدالت میں مقدمہ پیش کیا گیا تھا جہاں انہیں تعزیری سزا کے تحت موت کی سزا سنائی گئی۔ تمام قانونی مراحل اور توثیق کے بعد اس فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ سخت سزائیں جرم کی سنگینی اور مقدس مقام کی حرمت کے پیش نظر دی گئی ہیں۔