یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں تقریباً 15 لاکھ پاکستانی بچے آن لائن ہراسانی کا شکار ہوئے

تشویشناک انکشاف، ڈیجیٹل رسائی پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت، قانونی خامیوں کو دور کرنے پر زور

October 17, 2026 · اہم خبریں
یونیسیف کی رپورٹ میں بچوں کو انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یونیسیف کی رپورٹ میں بچوں کو انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 1 سال کے دوران تقریباً 15 لاکھ پاکستانی بچوں نے انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی کا سامنا کیا۔ یونیسیف نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک بچوں کی بلا روک ٹوک رسائی پر گہری نظر رکھیں اور ان کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائیں۔

رپورٹ کے انکشافات کے مطابق آن لائن ہراسانی کا شکار بننے والے بچوں میں سے 57 فیصد نے شرمندگی، خاندانی ردعمل اور بدنامی کے خوف سے اس واقعے کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ اس کے علاوہ، یونیسیف نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے ذریعے بچوں کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کرنے کے رجحان کو بھی ایک بڑا اور ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن ہراسانی کے کل واقعات میں سے 44 فیصد کا تعلق سوشل میڈیا سے تھا، جب کہ متاثرہ بچوں کے بیان کردہ 85 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم ان کا کوئی جان پہچان والا شخص ہی تھا۔ یونیسیف نے بچوں کو نازیبا تصاویر اور پیغامات بھیجنے، نجی تصاویر طلب کرنے، ان کی تشہیر کرنے اور بلیک میلنگ کو جنسی ہراسانی کی اہم ترین صورتیں قرار دیا ہے۔

ادارے نے زور دیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ قانونی نظام میں موجود خامیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، تفتیشی عمل کو بہتر بنایا جائے اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ شکایات کے اندراج کے لیے محفوظ ذرائع بھی فراہم کیے جائیں۔