مولانا فضل الرحمان گورنر خیبر پختونخوا بننا چاہیں تو غور ہوسکتا ہے،اختیار ولی خان
وزیراعظم اور حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی تھی، تاہم جماعت نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
مولانا فضل الرحمان گورنر خیبر پختونخوا بننا چاہیں تو غور ہوسکتا ہے،اختیار ولی خان
وزیراعظم کے معاون برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ اگر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خود خیبر پختونخوا کے گورنر کا عہدہ سنبھالنے میں دلچسپی ظاہر کریں تو اس تجویز پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کو بھی یہ عہدہ دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی تھی، تاہم جماعت نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت مختلف سیاسی شخصیات کو دوسری جماعتوں سے لا کر تشکیل دی گئی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے کسی واضح منصوبے کی موجودگی کا علم نہیں، کیونکہ بقول ان کے ایسا کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔
شوکت یوسفزئی کے خط سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ خط کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے والا اپنی حکومت اور سیاست کو بھی تاریخ کے حوالے کر چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا کی اپنی جماعت اور سیاسی نظریات ہیں، جن میں دیگر جماعتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے، تاہم پاکستان سے محبت اور دو قومی نظریے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
اختیار ولی خان کے مطابق، وہ چاہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان ملکی سیاست میں مثبت کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا تحریک انصاف کے باعث پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے کے خواہش مند ہیں اور اگر وہ خود گورنر خیبر پختونخوا بننے پر آمادہ ہوں تو اس معاملے پر غور کیا جاسکتا ہے۔