سندھ میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

قانون میں ترمیم سے پہلے مقررہ مدت کے لیے تعینات کیے گئے ججز پر 65 سال کی نئی عمر کی حد لاگو نہیں ہوگی

October 21, 2026 · قومی
سندھ میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

سندھ میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

وفاقی آئینی عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کو عہدوں سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے جج محمد یامین کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا 22 دسمبر 2025 کا فیصلہ بھی منسوخ کردیا۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق قانون میں ترمیم سے پہلے مقررہ مدت کے لیے تعینات کیے گئے ججز پر 65 سال کی نئی عمر کی حد لاگو نہیں ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ محمد یامین انسداد دہشت گردی عدالت نمبر چار کراچی میں اپنی ڈھائی سالہ مقررہ مدت مکمل کریں گے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محمد یامین کو 19 ستمبر 2024 کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ڈھائی سال کے لیے جج مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت قانون میں جج کی تقرری کے لیے عمر کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں تھی، جبکہ تقرری کے وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔

عدالت کے مطابق سندھ انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2025 کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا۔ قانون میں بعد ازاں کی جانے والی ترمیم کے ذریعے پہلے سے حاصل شدہ حق کو واضح قانونی جواز کے بغیر ختم نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا ترمیم سے قبل تعینات ججز اپنی مقررہ مدت پوری کرنے کے حق دار ہیں۔

واضح رہے کہ ترمیمی قانون کے تحت انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی تقرری اور عہدے پر برقرار رہنے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر 65 سال مقرر کی گئی تھی۔ اس ترمیم کے بعد سندھ حکومت نے محمد یامین سمیت تین ججز کو عہدوں سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔