لاہور ہائیکورٹ نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی درخواست مسترد کر دی
جسٹس محمد اجمل زاہد نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی درخواست مسترد کر دی
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یونیورسٹی صوبائی محتسب کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ عدالت نے ایم ایس سی کیمسٹری میں طالبہ کے داخلے سے متعلق محتسب کا حکم بھی برقرار رکھا ہے۔
جسٹس محمد اجمل زاہد نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے میں یونیورسٹی کے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا گیا کہ وہ خودمختار ادارہ ہونے کے باعث حکومت کے ماتحت نہیں اور صوبائی محتسب کو اس کے معاملات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی ادارے کا حکومت کے قائم کردہ ہونے یا حکومتی کنٹرول میں کام کرنے کی صورت میں اسے متعلقہ دائرہ اختیار میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ ادارہ حکومتی نگرانی سے مکمل طور پر آزاد ہو گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق گورنر پنجاب یونیورسٹی کے چانسلر ہیں اور انہیں یونیورسٹی کے فیصلوں کا جائزہ لینے اور معاملات کی انکوائری کرانے کا اختیار حاصل ہے۔ وائس چانسلر کی اہلیت اور تقرری کی شرائط بھی حکومت طے کرتی ہے۔
عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ میں صوبائی حکومت کے سیکریٹریز اور ارکان اسمبلی شامل ہیں، جبکہ ادارے کا آڈٹ بھی حکومت کے مقرر کردہ آڈیٹر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ عدالت کے مطابق یہ تمام عوامل یونیورسٹی پر حکومتی کنٹرول کی نشاندہی کرتے ہیں۔
عدالت نے یونیورسٹی کے اس اعتراض کو بھی مسترد کر دیا کہ اس کا قیام پرانا ہونے کی وجہ سے اسے صوبائی محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا جائے۔
فیصلے کے مطابق جس طالبہ کے ایم ایس سی کیمسٹری میں داخلے کا معاملہ زیر بحث تھا، وہ اپنی تعلیم مکمل کر چکی ہیں، تاہم عدالت نے صوبائی محتسب کا متعلقہ حکم برقرار رکھا ہے۔