سندھ ہائیکورٹ نے فلم ’گھوسٹ اسکول‘ بغیر کٹوتی ریلیز کرنے کی اجازت دیدی
آسیب زدہ سکول کا راز کھل گیا، رابعہ کی تعلیم کے لیے جدوجہد بالآخر جیت گئی
فائل فوٹو
کراچی: فلم’’گھوسٹ اسکول‘‘ سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ آ گیا ۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے فلم’’گھوسٹ سکول‘‘کو کو بغیر کسی کٹوتی کے ریلیز کرنے کی اجازت دے دی۔
ہدایت کارہ سیماب گل کے مطابق سندھ سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کے بعض مناظر کاٹنے کے مطالبےکے بعد انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
فلم کی کہانی رابعہ نامی 10 سالہ بچی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے گاؤں کے واحد سکول کی اچانک بندش کی وجہ جاننے نکل پڑتی ہے، سکول کے آسیب زدہ ہونےکی افواہوں کے پیچھے چھپی حقیقت تلاش کرتی رابعہ کی کہانی سندھ میں غیر فعال سکولوں اور بچیوں کی تعلیم کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
فلم کی ریلیز کی اجازت ملنے پر سیماب گل نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئےکہاہے کہ وہ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ سندھ کے لوگ یہ کہانی دیکھیں کیونکہ یہ انہی کے معاشرے سے جڑی ہوئی ہے۔
فلم کی سنیماٹوگرافر زمرین وحدت افغانستان میں پیدا ہونے والی جرمن فلم ساز ہیں۔زمرین وحدت کے مطابق انہوں نے بحیثیت سنیماٹوگرافر فلم میں کام کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔
یہ فلم جرمنی کےکم از کم 11 سنیما گھروں سمیت اس سال برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جاچکی ہے،فلم 30 اکتوبر کو پنجاب اور سندھ میں ریلیز کی جائے گی۔