یوکرائنی فوجی نے زندہ رہنے کیلئے اپنا پاؤں خود کاٹ دیا،ڈرون سے ریسکیو

تقریباً آٹھ ماہ تک تباہ شدہ اسکول میں چھپے رہے۔ بالآخر انہیں ایک بھاری وزن اٹھانے والے ڈرون کے ذریعے ریسکیو کر لیا گیا۔

October 24, 2026 · امت خاص
یوکرائنی فوجی نے زندہ رہنے کیلئے اپنا پاؤں خود کاٹ دیا،ڈرون سے ریسکیو

یوکرائنی فوجی نے زندہ رہنے کیلئے اپنا پاؤں خود کاٹ دیا،ڈرون سے ریسکیو

یوکرین: روسی حملے میں شدید زخمی ہونے والے یوکرینی فوجی کونسٹینٹین ولاسینکو نے زندہ رہنے کے لیے اپنا ایک پاؤں خود کاٹ دیا، جس کے بعد وہ تقریباً آٹھ ماہ تک تباہ شدہ اسکول میں چھپے رہے۔ بالآخر انہیں ایک بھاری وزن اٹھانے والے ڈرون کے ذریعے ریسکیو کر لیا گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 49 سالہ ولاسینکو یوکرین کی 30ویں میکانائزڈ بریگیڈ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ فروری میں روسی ڈرون حملے کے دوران ان کا بایاں پاؤں ضائع ہوگیا، جبکہ دائیں ٹانگ بھی شدید زخمی ہوگئی، جس کے باعث ان کے لیے حرکت کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا۔

فوجی کے مطابق وہ ایک تباہ شدہ اسکول میں پانی گرم کرنے والے دھاتی بوائلر کے نیچے بنے ایک چھوٹے سے گڑھے میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ دائیں ٹانگ کی حالت مسلسل خراب ہونے اور ہڈی باہر نکل آنے کے باعث انہوں نے اپنا پاؤں خود کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں خون روکنے کے لیے ٹانگ پر ٹورنیکیٹ باندھ لیا۔

رپورٹ کے مطابق ولاسینکو نے طویل عرصے تک انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزاری۔ ان کے ساتھ موجود ساتھی فوجی روسی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ مسلسل نگرانی اور فضائی حملوں کے باعث علاقے سے نکلنا انتہائی خطرناک ہوچکا تھا۔

ڈرون کے ذریعے منفرد ریسکیو آپریشن

یوکرینی فوجی کمانڈروں نے ولاسینکو کو نکالنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے، تاہم زمینی گاڑیوں کے ذریعے ریسکیو کی کوششیں روسی ڈرون حملوں کے باعث ناکام رہیں۔ اس کے بعد ایک مقامی کمپنی کے تیار کردہ بھاری وزن اٹھانے والے ڈرون کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق چھ پروپیلرز والے اس ڈرون نے ولاسینکو کو پٹیوں اور رسیوں کی مدد سے اٹھایا اور تقریباً 15 کلومیٹر دور ایک محفوظ مقام تک پہنچا دیا۔ کمانڈروں کے مطابق یہ کسی فوجی کو ڈرون کے ذریعے فضا میں اٹھا کر محفوظ مقام تک منتقل کرنے کا پہلا معلوم واقعہ ہے۔

ریسکیو کے بعد ولاسینکو کو خارکیف کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں اپنی زندگی بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔

رائٹرز کے مطابق فوجی کی بیان کردہ کہانی کی تصدیق یوکرینی فوج اور ریسکیو ڈرون کیمرے کی فوٹیج سے ہوتی ہے، تاہم خبر رساں ادارے نے واقعے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی وضاحت بھی کی ہے۔

یہ واقعہ یوکرین جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار اور محاذ پر زخمی فوجیوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں درپیش خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔