چینی فوج چھ کلومیٹر بھارتی علاقے میں گھس کر بیٹھنے کا انکشاف، مودی حکومت سچ چھپانے لگی

چینی پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکار چند روز بعد دوبارہ علاقے میں پہنچے اور اس علاقے میں تقریباً 6 سے 7 کلومیٹر اندر خیمے نصب کر لیے

October 24, 2026 · امت خاص
چینی فوج چھ کلومیٹر بھارتی علاقے میں گھس کر بیٹھنے کا انکشاف، مودی حکومت سچ چھپانے لگی

چینی فوج چھ کلومیٹر بھارتی علاقے میں گھس کر بیٹھنے کا انکشاف، مودی حکومت سچ چھپانے لگی

نئی دہلی: بھارتی ریاست اروناچل پردیش میں چینی فوج کی مبینہ پیش قدمی اور سرحدی کشیدگی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق چینی فوجی جولائی میں اروناچل پردیش کے علاقے ماجا میں بھارتی فوج کے اہلکاروں کے آمنے سامنے آئے، جس کے بعد مختصر کشیدگی پیدا ہوئی۔

رپورٹ میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ چینی پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکار چند روز بعد دوبارہ علاقے میں پہنچے اور اس علاقے میں تقریباً 6 سے 7 کلومیٹر اندر خیمے نصب کر لیے جسے بھارت اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔

ان اطلاعات کے بعد بھارت میں سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے بھی حالیہ دنوں میں اروناچل پردیش کے مختلف مقامات پر بھارتی اور چینی افواج کے درمیان ٹکراؤ جیسی صورتحال کا اعتراف کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی صورتحال پر عوام کو حقائق سے آگاہ کرے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اس معاملے پر پارلیمنٹ میں وضاحت اور بحث ہونی چاہیے۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے سرحدی کشیدگی سے متعلق سوالات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک سفارتی اور فوجی رابطوں کے ذریعے سرحدی معاملات اور غلط فہمیوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش پر دیرینہ سرحدی تنازع موجود ہے۔ چین اس علاقے کو جنوبی تبت قرار دیتے ہوئے اس پر دعویٰ کرتا ہے، جبکہ بھارت اسے اپنی ریاست تسلیم کرتا ہے۔ چینی فوج کی مبینہ پیش قدمی سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔