فرانس میں احتجاج پھر تیز، سوا لاکھ سڑکوں پر نکل آئے، فٹبال میچ ملتوی

روم میں بھی جھڑپیں، اسپین کے شہر بارسلونا میں دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات

October 25, 2026 · اہم خبریں
یورپ میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کا سامنا۔

یورپ میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کا سامنا۔

مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کے خلاف یورپ بھر میں احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ فرانس، اٹلی، اسپین اور بیلجیم سمیت متعدد ممالک میں عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مہنگائی اور تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جہاں 110,000 افراد نے سڑکوں پر آ کر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس دوران پیرس اور لیون میں طلبہ اور مظاہرین کی پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جنہیں منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے شیلنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ حکام کے مطابق فرانس بھر میں ہنگامہ آرائی کے دوران 135 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

فرانسیسی دارالحکومت میں جاری ان ہنگاموں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) اور لیون کے درمیان ہونے والا اہم فٹ بال میچ بھی ملتوی کرنا پڑا ہے۔ لیگ ون کی ان دونوں بڑی ٹیموں کے درمیان مقابلہ اتوار کی شام 8 بج کر 45 منٹ پر پارک دے پرنسز اسٹیڈیم میں شیڈول تھا جسے اب پیر کی شام 8 بج کر 30 منٹ پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اٹلی کے دارالحکومت روم اور میلان میں بھی کم تنخواہوں، مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ روم میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 11 افراد کو گرفتار جبکہ 96 کو زیر حراست لیا گیا ہے۔ اسی طرح اسپین کے شہر بارسلونا میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے جہاں دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور پولیس نے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز اور البانیہ میں بھی حکومت مخالف ریلیاں نکالی گئیں جنہیں روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں جاری یہ معاشی احتجاج خطے کی حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔