سندھ میں 6 معروف ادویات کے 7 نمونوں میں مؤثر اجزا غائب، جعلی قرار

سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ، ڈرگ ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش، کمپنیوں کا لاتعلقی کا اظہار۔

October 25, 2026 · اہم خبریں
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ کی رپورٹ میں ادویات کے نمونے جعلی قرار دیے جانے کی تصویر۔

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ کی رپورٹ میں ادویات کے نمونے جعلی قرار دیے جانے کی تصویر۔

کراچی میں ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سندھ نے 6 معروف ادویات کے 7 بیچز کے نمونوں کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ سرکاری تجربہ گاہ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختلف ادویات کے ان نمونوں میں اصل مؤثر یا فعال اجزا موجود ہی نہیں تھے۔ اس سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد متعلقہ دوا ساز کمپنیوں، ادویات کی تیاری اور ان کی ترسیل کے ذرائع کی جانچ پڑتال انتہائی اہم ہو گئی ہے۔

سرکاری رپورٹس کے مطابق ویلوسیف 500 ملی گرام کے بیچ نمبر ایل ایکس تھری ای میں مطلوبہ مؤثر جزو سیفراڈین کی شناخت نہیں ہو سکی، جبکہ آگمینٹن 625 ملی گرام ٹیبلٹ کے بیچ نمبر وائی ٹی نائن ڈی میں اموکسی سلین اور کلاوولینک ایسڈ موجود نہیں پایا گیا۔ اس کے علاوہ نو-سپا فورٹ 80 ملی گرام ٹیبلٹ میں ڈروٹاوی ہائیڈروکلورائیڈ، میوکین سسپنشن میں مطلوبہ فعال اجزا، اور جوڑوں کے درد کے لیے استعمال ہونے والی دوا بریکسین کے بیچ نمبر ڈبلیو سکس بی سی میں پیروکسیکام کی موجودگی ظاہر نہیں ہوئی۔

دستاویزات کے مطابق قبض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے مشہور شربت لیگزوبرون کے دو مختلف بیچز (نمبر 46292 اور 43445) بھی جانچ کے دوران جعلی نکلے جن میں مؤثر جزو سوڈیم پیکوسلفیٹ غائب پایا گیا۔ مارٹن ڈاؤ مارکر نے لیگزوبرون کے زیرِ اعتراض بیچز کی تیاری سے لاتعلقی ظاہر کی ہے، جبکہ دیگر متعلقہ دوا ساز کمپنیوں نے بھی ان مخصوص بیچز کو اپنی تیار کردہ ادویات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سید عدنان رضوی کے مطابق ان ادویات کو ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت جعلی قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے اور تمام رپورٹس سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ سندھ کے ساتھ ساتھ ڈرگ انسپکٹر کراچی ساؤتھ کو بھی مزید قانونی کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئی ہیں۔