این سی سی آئی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، بچوں کی نازیبا ویڈیوز بیچنے والا باپ گرفتار
بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کردی گئیں
این سی سی آئی اے کی جانب سے چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا منظر
نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) اسلام آباد نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے چائلڈ پورنوگرافی کے بین الاقوامی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے اور ایک سنگ دل باپ کو اپنے ہی معصوم بچوں کی نازیبا ویڈیوز آن لائن فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شعیب خان نے انکشاف کیا کہ ملزم اپنے 4 سے 5 سالہ معصوم بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس کے ذریعے کرپٹو کرنسی کے عوض فروخت کرتا تھا۔ دستاویزات اور تفتیشی رپورٹس کے مطابق ویڈیوز میں جانوروں سے بدسلوکی کے انتہائی ہولناک اور ہوشربا مناظر بھی شامل تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور واقعے میں ہراسمنٹ سے تنگ آ کر ایک بچی نے خودکشی کی کوشش بھی کی تھی، جسے بلیک میل کرنے والے ملزم کو بھی شکایت پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے اہم لنکس اور شواہد برآمد ہوئے ہیں جبکہ برآمد شدہ الیکٹرانک ڈیوائسز کو مزید فرانزک تجزیے کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں بھی این سی سی آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے 42 افراد کو حراست میں لیا جن میں سے 13 افراد کو باقاعدہ گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر کے مطابق گرفتار ملزمان خواتین کے نام سے جعلی سوشل میڈیا آئی ڈیز بنا کر امریکا اور جرمنی سے کلائنٹس ڈھونڈتے تھے اور بچوں کی اینیمیٹڈ پورن کلپس فروخت کرتے تھے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کے مطابق ملزمان کسٹمائزڈ کنٹینٹ اور سپر امپوزڈ کلپس تیار کرنے میں بھی ملوث تھے اور کلپس فراہم کرنے کے بعد خریداروں کو بلیک میل بھی کیا کرتے تھے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔