تہران ملاقات: کیا مکہ معاہدے کے ممالک ایران کو وارننگ دینے آرہے ہیں؟
فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت تینوں ملکوں کی اعلیٰ ترین سیکورٹی قیادت کی تہران میں موجودگی اہم ایرانی میڈیا میں مختلف موقف پیش
ابراہیم کالین، شہزادہ خالد بن سلمان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر
مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ ترین سکیورٹی حکام آج ایرانی دارالحکومت میں ایرانی قیادت سے ایک انتہائی اہم اور حساس ملاقات کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اہم سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ کیا یہ ملاقات ایران کو وارننگ دینے کے لیے ہے یا اس کے کچھ اور مقاصد ہیں۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ذرائع ابلاغ اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس دورے کو ایران کے لیے ایک مضبوط اور واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا بنیادی مرکز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں یہ تو نہیں کہا گیا کہ ملاقات میں ایران کو وارننگ دی جائے گی تاہم یہ ضرور بتایا گیا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے سے پہلے یہ پہلا اس نوعیت کا دورہ ہے اور اس دورے سے قبل سعودی عرب میں ریاض میں تینوں ممالک کے وزرا نے ایک ہنگامی میٹنگ کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے لکھا کہ اگست 2026 میں قائم ہونے والے مکہ دفاعی اتحاد کے آرٹیکل 1 کے تحت کسی بھی رکن ملک پر مسلح حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے اور اہم ترین آئل پائپ لائنوں پر حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے اس نئی دفاعی فورس کو متحرک کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مکہ بلاک کے حکام جن میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم کالین شامل ہیں، تہران میں ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے سامنے یہ موقف رکھنے جا رہے ہیں کہ اگر ایران نے حوثی باغیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ان حملوں کو فوری طور پر نہ روکا تو مکہ اتحاد اپنے چارٹر کے تحت سعودی عرب کے دفاع کے لیے فعال تادیبی اور تزویراتی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جائے گا، جسے عالمی دفاعی حلقے ایران کے لیے ایک واضح سکیورٹی وارننگ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا بشمول مہر نیوز اور ارنا (IRNA) نے اس ملاقات کا ایک مختلف رخ پیش کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ایران اس دورے کو خطے میں امریکی اور اسرائیلی اثر و رسوخ کو کم کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایران کے ڈپٹی سکیورٹی چیف علی باقری کے حالیہ بیانات کے مطابق تہران انتظامیہ خطے کے بڑے مسلم ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسے علاقائی سکیورٹی ماڈل پر کام کرنا چاہتی ہے جو بیرونی مداخلت کے بغیر قائم ہو، اور ایرانی میڈیا اس ملاقات کو وارننگ کے بجائے خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک تزویراتی شراکت داری کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) کے ماہرین اور مشرقِ وسطیٰ کے نامور صحافیوں کی جانب سے اس دورے کی لائیو ٹریکنگ کی جا رہی ہے جہاں سفارتی حلقوں میں یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ مکہ بلاک کی جانب سے ایران کو اس نئے سکیورٹی فریم ورک کا حصہ بننے یا اس کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پیشکش بھی زیرِ غور آ سکتی ہے۔
عرب میڈیا نیٹ ورک الجزیرہ کے لائیو بلاگ اور دیگر رپورٹس کے مطابق اس دورے کا ایک اہم مقصد خطے کو ایک بڑی ہمہ گیر جنگ سے بچانا بھی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک کلیدی سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے گزشتہ ہفتے کیے گئے تہران کے تنہا دورے نے ہی آج کی اس چار فریقی اہم ملاقات کی بنیاد رکھی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ محض ایک یکطرفہ وارننگ نہیں ہے بلکہ یہ مکہ بلاک کی جانب سے ایران کو ایک ایسا سفارتی راستہ فراہم کرنے کی کوشش ہے جس کے ذریعے حوثی حملوں کو روک کر خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔