کاکڑ فارمولے والے جنرل وحید کاکڑ جنہوں نے توسیع ٹھکرا دی اور ضیا کو انکار کیا
ریٹائرمنٹ کے بعد ٹی وی انٹرویوز سے گریز کرتے رہے- آرمی چیف بنتے وقت سینارٹی لسٹ میں 5ویں نمبر پر تھے
جنرل وحید کاکڑ
پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ میں کئی ایسے نام گزرے ہیں جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں اور پالیسیوں پر گہرے نقوش چھوڑے، لیکن جنرل عبدالوحید کاکڑ کا نام تاریخ کے پنوں پر ایک ایسے منفرد اور اصول پسند سپہ سالار کے طور پر درج ہے جنہوں نے اقتدار اور منصب پر اصولوں کو ترجیح دی۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے واحد آرمی چیف ہیں جنہوں نے اپنے لیے ملازمت میں توسیع (ایکسٹینشن) کی پیشکش کو انتہائی وقار کے ساتھ ٹھکرا دیا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ایسی گوشہ نشینی اختیار کی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
جنرل (ر) عبدالوحید کاکٹر پیر 26 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔
توسیع قبول کرنے سے انکار
جب 1993 میں آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے اچانک انتقال کے بعد جنرل عبدالوحید کاکڑ نے پاک فوج کی کمان سنبھالی، تو ملک شدید سیاسی بحران کی زد میں تھا۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں فوج کی قیادت کی۔ 1996 میں جب ان کی 3سالہ آئینی مدتِ ملازمت مکمل ہو رہی تھی، تو اس وقت کی وزیرِ اعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے ملکی حالات اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سروس میں توسیع (ایکسٹینشن) دینے کی پیشکش کی تھی۔
پاکستان کی تاریخ میں جہاں کئی وزرائے اعظم نے اپنی بقا کے لیے یا آرمی چیفس نے خود اپنے منصب کو طول دینے کے لیے توسیع کا سہارا لیا، وہیں جنرل وحید کاکڑ نے اس روایت کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر ہی رخصت ہوں گے تاکہ فوج میں پروموشن کا قدرتی نظام متاثر نہ ہو اور جونیئر افسران کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ 12 جنوری 1996 کو وہ کمان جنرل جہانگیر کرامت کے حوالے کر کے اپنے گھر چلے گئے۔
تاریخی ‘کاکڑ فارمولا’ اور سیاسی بحران کا حل
جنرل عبدالوحید کاکڑ کے دور کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ “کاکڑ فارمولا” کہلاتا ہے۔ 1993 میں پاکستان ایک شدید ترین آئینی اور سیاسی بحران کا شکار ہو چکا تھا۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے درمیان اختیارات کی جنگ اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ریاستی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف حکومت کی بحالی کے باوجود دونوں رہنما ایک دوسرے کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے۔
ملک سول وار یا مارشل لا کی طرف بڑھ رہا تھا، لیکن جنرل وحید کاکڑ نے ماضی کے برعکس تیسرا راستہ چنا۔ انہوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے دونوں سویلین رہنماؤں کو میز پر بٹھایا اور ایک سیاسی حل کشید کیا جسے “کاکڑ فارمولا” کہا جاتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت:
وزیرِ اعظم نواز شریف اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔
صدر غلام اسحاق خان بھی اپنے منصب سے دستبردار ہو گئے۔
ملک میں عام انتخابات کے لیے ایک غیر جانبدار نگران حکومت قائم کی گئی جس کے سربراہ معین قریشی بنے۔
اس فارمولے کے نتیجے میں ملک بغیر کسی خون خرابے یا مارشل لا کے ایک بڑے سیاسی بحران سے نکل گیا اور 1993 کے اواخر میں شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا، جس کے بعد بینظیر بھٹو دوبارہ وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں۔
ابتدائی زندگی اور پانچویں نمبر سے آرمی چیف بننا
جنرل عبدالوحید کاکڑ 20 مارچ 1937 کو پشاور میں پیدا ہوئے، تاہم ان کا تعلق بلوچستان کے پشتون قبیلے ‘کاکڑ’ سے تھا۔ انہوں نے 1959 میں پاک فوج کی مایہ ناز فرنٹیر فورس رجمنٹ (FF) میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ انتہائی پیشہ ور، کم گو اور بیرکوں کے نظم و ضبط کو پسند کرنے والے افسر تھے۔ اپنی سروس کے دوران انہوں نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں حصہ لیا۔ وہ کور کمانڈر راولپنڈی اور ڈی جی ملٹری ٹریننگ جیسے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے اور جب جنوری 1993 میں آرمی چیف بنے تو وہ سینیارٹی لسٹ میں چوتھے یا پانچویں نمبر پر تھے، لیکن ان کی غیر سیاسی شہرت کی وجہ سے انہیں منتخب کیا گیا۔
جنرل عبدالوحید کاکڑ کو وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے جنوری 1993 میں آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ نواز شریف نے دیگر کئی آرمی چیف بھی لگائے جن میں جنرل آصف نواز جنجوعہ، جنرل پرویز مشرف، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔
جنرل ضیا الحق کو انکار
جنرل وحید کاکڑ 1987 سے 1989 کے درمیان جی ایچ کیو (GHQ) میں بطور ایڈجوٹنٹ جنرل خدمات انجام دے رہے تھے اور اس وقت آرمی میڈیکل کالج (AMC) میں داخلے ان کے دائرہ اختیار میں آتے تھے۔
اس دوران صدرِ پاکستان اور آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کی طرف سے انہیں براہِ راست ایک زبانی حکم (یا آرڈر) ملا کہ تین مخصوص طلبہ کو آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ دیا جائے۔ جب جنرل وحید کاکڑ نے ان طلبہ کا ریکارڈ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ وہ داخلے کے لیے مقرر کردہ لازمی میرٹ اور کم از کم نمبروں کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
ملک کے طاقتور ترین فوجی صدر کا حکم ہونے کے باوجود، جنرل وحید کاکڑ نے واضح طور پر داخلہ دینے سے انکار کر دیا انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر نااہل لوگوں کو میرٹ پامال کر کے داخلہ دیا گیا تو یہ ادارے کی ساکھ اور قانون کے خلاف ہوگا۔
جب صدر ضیاء الحق کو معلوم ہوا کہ ایک جونیئر جرنیل نے ان کا حکم ماننے سے معذرت کر لی ہے، تو انہوں نے جنرل کاکڑ پر دباؤ ڈالنے یا انہیں عہدے سے ہٹانے کے بجائے ایک انوکھا راستہ نکالا۔ صدر نے آرمی میڈیکل کالج کی کل نشستیں ہی 60 سے بڑھا کر 100 کر دیں تاکہ ان بچوں کی گنجائش بھی نکل آئے اور میرٹ لسٹ پر موجود دیگر بچے بھی متاثر نہ ہوں۔
صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ جب کاکڑ آرمی چیف بنے، تو انہیں معلوم ہوا کہ ملٹری انٹیلیجنس (MI) اور آئی ایس آئی (ISI) کے بعض اعلیٰ حکام اپنے دائرہ کار سے نکل کر سیاسی معاملات اور اس وقت کی وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ ذاتی روابط بڑھانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
جنرل وحید کاکڑ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان طاقتور انٹیلیجنس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی اور انہیں عہدوں سے ہٹا کر فوج کو سیاست سے دور رکھنے کا اپنا اصول واضح کر دیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کی گوشہ نشینی
جنرل وحید کاکڑ کی شخصیت کا ایک اور پہلو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا طرزِ زندگی تھا۔ 1996 میں فوج کی کمان چھوڑنے کے بعد وہ راولپنڈی میں درویشانہ اور گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرنے لگے۔
پاکستان میں جہاں سابق فوجی اور سویلین حکام ریٹائرمنٹ کے بعد کتابیں لکھتے ہیں، ٹاک شوز میں بیٹھتے ہیں یا بیانات دیتے ہیں، جنرل کاکڑ نے اس کے بالکل برعکس کیا۔ انہوں نے اپنی پوری باقی ماندہ زندگی میں کبھی کسی ٹی وی چینل یا اخبار کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔ وہ کبھی کسی سیاسی یا عوامی تقریب، یہاں تک کہ دفاعی تقریبات میں بھی شاذ و نادر ہی دکھائی دیے۔
انہوں نے ملکی سیاست پر کبھی کوئی تبصرہ نہیں کیا اور اپنی خاموشی سے منصبِ سپہ سالاری کے تقدس کو چار چاند لگا دیے۔
وہ ایک طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد 26 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی کے ملٹری ہسپتال (MH) میں انتقال کر گئے۔