مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن میں سے کون جیت رہا ہے؟،خواجہ سعد رفیق کا سوال

حقیقت میں کوئی بھی فریق نہیں جیت رہا، بلکہ ناانصافی، غربت، لاقانونیت، انتشار، انتقام، تعصب، آمرانہ رویوں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

October 26, 2026 · قومی
مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن میں سے کون جیت رہا ہے؟،خواجہ سعد رفیق کا سوال

مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن میں سے کون جیت رہا ہے؟،خواجہ سعد رفیق کا سوال

لاہور: سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک کی سیاسی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ موجودہ حالات میں مقتدرہ، حکومت اور اپوزیشن میں سے آخر کامیابی کس کے حصے میں آ رہی ہے؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حقیقت میں کوئی بھی فریق نہیں جیت رہا، بلکہ ناانصافی، غربت، لاقانونیت، انتشار، انتقام، تعصب، آمرانہ رویوں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ان مسائل کے خلاف کون آواز اٹھائے گا اور قوم کو ان مشکلات سے نجات دلانے کی ذمہ داری کون پوری کرے گا؟ ان کے مطابق ملک کے مسائل حل کرنے کے بجائے متعلقہ فریق باہمی اختلافات اور محاذ آرائی میں الجھے ہوئے ہیں، جبکہ ماضی کی غلطیوں سے بھی سبق نہیں سیکھا جا رہا۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے اپنی توانائیاں اور وسائل اندرونی لڑائیوں پر خرچ کرنے والے ملک کے لیے نجات دہندہ ثابت نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اختیار کے ارتکاز اور مخالفین کو ہر قیمت پر شکست دینے کی سیاست نے گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے اہلِ دانش اور ملک سے ہمدردی رکھنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ آئین کی بالادستی اور قومی پرچم کے احترام پر یقین رکھنے والی قوتوں کو متحد کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے، اس لیے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو سنگین صورتِ حال اختیار کرنے سے پہلے روکنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بیداری کی ایسی لہر پیدا کی جائے جو ایمان، آئین، انصاف، امن، اتحاد، اصلاحات اور استحکام کے اصولوں کو فروغ دے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایک دوسرے سے خوف، بداعتمادی اور مسلسل تصادم معاشرے میں گہری تقسیم پیدا کر سکتے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے مسائل کے حل کے لیے آئین و قانون کی حکمرانی، میرٹ کے نفاذ، عام شہریوں کی حقیقی نمائندگی پر مبنی جمہوریت، مکالمے، شفاف حکمرانی اور مالیاتی نظم و ضبط کو ضروری قرار دیا۔