پی ٹی آئی میں ’مارٹونگے‘ گالم گلوچ کرتے ہیں، شیرافضل نے نئی اصطلاح متعارف کرادی

شاندانہ گلزار کے خلاف کسی کی بات قبول نہیں، آڈیو لیکس کرنے والوں کو جانتا ہوں، صحافیوں سے گفتگو

October 28, 2026 · امت خاص
ی ٹی آئی میں ’مارٹونگے‘ گالم گلوچ کرتے ہیں، شیرافضل نے نئی اصطلاح متعارف کرادی

ی ٹی آئی میں ’مارٹونگے‘ گالم گلوچ کرتے ہیں، شیرافضل نے نئی اصطلاح متعارف کرادی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی امور، شاندانہ گلزار کے ساتھ تعلقات، آڈیو لیکس اور سوشل میڈیا پر تنقید کے حوالے سے کھل کر بات کی اور اس دوران سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کرنے والوں کے لیے ’’مارٹونگے‘‘ کی نئی اصطلاح متعارف کرائی۔

علی امین گنڈا پور اور شاندانہ گلزار کی آڈیو لیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ شاندانہ میری بہن کی طرح ہیں اور پارلیمنٹ میں ہماری نشستیں بھی بالکل ساتھ ہیں، ان کے خلاف کوئی بات قبول نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاندانہ کی اپنی کچھ ریزرویشنز ضرور تھیں اور وہ علی امین گنڈاپور سے توقع رکھیں گے کہ وہ شاندانہ کو ناراض نہ کریں۔

علی امین گنڈاپور کی آڈیو لیکس کے بارے میں سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اندرونی فیصلے میٹنگ کے دوران ہی ٹی وی سکرینز پر چلنا شروع ہو جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ لوگوں کے گھٹیا چہروں کا پتہ ہے جو یہ سب کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی میں سب سے بڑا فقدان جرات کا ہے، سب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ حق و سچ کی بات کرنے پر فلاں ناراض ہو جائے گا، لیکن جب پارٹی ہی نہیں رہے گی تو کسی کی ناراضی کی کیا پرواہ کرنی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور گالم گلوچ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ کل فیس بک دیکھ رہے تھے جہاں بہت سارے مارٹونگے بیٹھے ہیں جو گالم گلوچ کرتے ہیں۔ صحافیوں کے سوال پر انہوں نے مزید کہا کہ یہ مارٹونگا کوئی رانا ٹونگا کا بھائی نہیں ہے، بس مارٹونگا ہے، اور اتنے سارے مارٹونگے پیدا ہو گئے ہیں جن کے ابھی ہاتھ بھی نہیں نکلے ہوتے کہ وہ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال، گورنر راج کے نفاذ اور پارٹی کی سمت سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی وہ کہتے رہے ہیں کہ پارٹی بند گلی کی طرف جا رہی ہے، لیکن اب اس حوالے سے ان کا مزید کوئی کام نہیں کیونکہ ان کا اس معاملے سے تعلق ختم ہو چکا ہے۔