اسرائیلی انتخابات میں تاریخی ووٹر ٹرن آئوٹ،نیتن یاہو اور آئزنکوٹ اکثریت سے دور

آئزنکوٹ کی یشار پارٹی اور ان کے تبدیلی اتحاد میں شامل تین دیگر اپوزیشن جماعتیں 120 رکنی کنیسٹ میں تقریباً 51 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں

October 28, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
اسرائیلی انتخابات میں تاریخی ووٹر ٹرن،نیتن یاہو اور آئزنکوٹ اکثریت سے دور

اسرائیلی انتخابات میں تاریخی ووٹر ٹرن،نیتن یاہو اور آئزنکوٹ اکثریت سے دور

اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی جائزوں کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، تاہم کسی بھی فریق کو پارلیمان میں واضح اکثریت ملنے کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

دو اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز کے مطابق آئزنکوٹ کی یشار پارٹی اور ان کے تبدیلی اتحاد میں شامل تین دیگر اپوزیشن جماعتیں 120 رکنی کنیسٹ میں تقریباً 51 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور مذہبی قدامت پسند اتحادیوں کو بھی اتنی ہی نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ایک تیسرے نشریاتی ادارے کے اندازے میں نیتن یاہو کے اتحاد کو تین نشستوں کی برتری حاصل ہے۔

حکومت سازی میں عرب جماعتوں کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق دو عرب جماعتیں مجموعی طور پر 18 سے 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں، جس کے بعد ان کی حمایت حکومت بنانے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہونے کا امکان ہے۔

انتخابات میں ووٹرز کی غیر معمولی شرکت بھی توجہ کا مرکز رہی۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے پولنگ ختم ہونے تک ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 1999 کے بعد اس وقت تک کی بلند ترین شرح بتائی گئی ہے۔

ابتدائی نتائج رات گئے سامنے آنے کی توقع تھی، تاہم تقریباً چھ لاکھ غیر حاضر ووٹ، جن میں بڑی تعداد فوجی اہلکاروں کی بتائی گئی ہے، جمعرات تک مکمل طور پر شمار کیے جانے تھے۔ یہ ووٹ مجموعی تعداد کا تقریباً 10 فیصد ہیں۔

حتمی نتائج کی تصدیق اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اسرائیلی صدر اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ پارلیمان میں حکومتی اتحاد تشکیل دینے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔ حکومت سازی کا یہ عمل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

اگر نامزد رہنما حکومت بنانے میں ناکام رہا تو اسرائیل میں دوبارہ انتخابات کرانے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔