علی امین گنڈاپور نے الگ گروپ نہیں بنایا،پارلیمانی اجلاس اندرونی معاملہ ہے،شوکت یوسفزئی
تین سال میں عمران خان کو ریلیف نہ ملنے پر پارٹی حکمت عملی پر نظرثانی کا مطالبہ
فائل فوٹو
پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے کوئی الگ گروپ نہیں بنایا، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جو کچھ ہوا وہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی بیرسٹر گوہر کی قیادت میں متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے جیل میں ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ یوٹیوبرز کو ہو رہا ہے، جبکہ اداروں اور تحریک انصاف کے درمیان خلیج کا زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ہوا۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نے ملاقات میں بہت دیر کردی، جبکہ محمود خان اچکزئی پر عدم اعتماد کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف گزشتہ تین سال میں عمران خان کو کوئی ریلیف نہیں دلا سکی، اس لیے پارٹی کو اپنی حکمت عملی پر ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی، جنید اکبر اور بابر سلیم سواتی کہاں ہیں، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ تینوں کو اب تک سامنے نہ لانے پر تشویش ہے۔ اگر وہ کسی مقدمے میں مطلوب ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاق کا صوبے کے ساتھ شروع سے رویہ غیر منصفانہ رہا ہے اور وزیراعظم صوبے کے تمام بقایاجات کی فوری ادائیگی یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں عدم تعاون کا بہانہ بنا کر منتخب حکومت کو ختم کیا گیا۔ تحریک انصاف ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔