حنا جاوید قتل کیس: راولپنڈی پولیس کو سبکی کا سامنا ، وزیر داخلہ کا نئے سرے سے تفتیش کا حکم
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ،آغا رفیع اللہ نے تفتیش میں موجود تضادات پر پولیس حکام کو سخت آڑے ہاتھوں لیا
فائل فوٹو
اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ ہنگامہ خیز اجلاس میں حنا جاوید قتل کیس کی ناقص اور مشکوک تفتیش پر راولپنڈی پولیس کو شدید خفت و سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیٹی ارکان کے شدید احتجاج اور مقتولہ کے خاندان کے عدم اعتماد کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیس کی نئے سرے سے باضابطہ تفتیش کا حکم جاری کر دیا ہے۔
اجلاس کے دوران راولپنڈی پولیس کے اعلیٰ حکام، بشمول آر پی او اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے وقت مقتولہ حنا جاوید کے فلیٹ میں نیچے ملازم جبکہ شوہر اوپر والے فلیٹ میں موجود تھا۔ پولیس نے سارا ملبہ گھریلو ملازم پر ڈالتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقتولہ کا شوہر پولی گراف ٹیسٹ میں کلیئر ہو چکا ہے۔
پولیس کی اس منطق پر قائمہ کمیٹی کے سینئر رکن آغا رفیع اللہ شدید برہم ہو گئے اور تفتیش میں موجود تضادات پر پولیس حکام کو سخت آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مقتولہ کے شوہر کا ڈی این اے جائے وقوعہ کے متعدد مقامات سے برآمد ہوا ہے، تو قتل کی تمام تر ذمہ داری ملازم پر ڈال کر شوہر کو کلین چٹ کیسے دی جا سکتی ہے؟ آغا رفیع اللہ نے پولیس تفتیش کو یکطرفہ اور بااثر ملزم کو بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے معاملے پر اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کر دیا۔
اجلاس میں مقتولہ حنا جاوید کی بہن بھی پیش ہوئیں، جنہوں نے آبدیدہ ہو کر پولیس کی جانبداری کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حنا پر ہولناک تشدد کیا گیا، جس سے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی جبکہ مزاحمت سے روکنے کے لیے اس کی کوہنیوں میں پیچ کس (اسکرو ڈرائیور) سے سوراخ کیے گئے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ راولپنڈی پولیس نے ابتدا میں اس اندوہناک قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی اور اب بااثر قاتل کو بچانے کے لیے غریب ملازم کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔
آغا رفیع اللہ، نبیل گبول اور دیگر ارکانِ کمیٹی کے شدید احتجاج اور مقتولہ کے لواحقین کے دلائل کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فوری ایکشن لیا۔ وزیر داخلہ نے فیملی کے تحفظات کو بجا تسلیم کرتے ہوئے حنا جاوید قتل کیس کی ازسرنو شفاف تفتیش کا حکم دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مظلوم خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔