امت مسلمہ کو فرقہ واریت سے بچانے کے لیے علماء متحد ہوں، حافظ نعیم

فلسطین اور کشمیر سمیت اہم عالمی تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

October 30, 2026 · قومی
امت مسلمہ کو فرقہ واریت سے بچانے کے لیے علماء متحد ہوں، حافظ نعیم

امت مسلمہ کو فرقہ واریت سے بچانے کے لیے علماء متحد ہوں، حافظ نعیم

استنبول: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مسلم علماء پر زور دیا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو انتہاپسندی، تکفیر اور فرقہ واریت سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر سمیت اہم عالمی تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے استنبول میں اتحاد العالمی للعلما المسلمین کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے عالمی پلیٹ فارم قائم کیا جانا چاہیے، جبکہ اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کو ترجیح دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ صیہونیت مسلم دنیا کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا چاہتی ہے، اس لیے اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔ ان کے مطابق مسلم اسکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور حکمرانوں کو درپیش مسائل سے نکلنے کے لیے واضح رہنمائی فراہم کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل کے 70 نکاتی ضابطہ اخلاق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے بڑے اختلافات بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم ممالک اپنے وسائل تعلیم، انصاف، معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر خرچ کریں۔

حافظ نعیم الرحمان نے خواتین اور نوجوانوں کے مسائل پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمت پیشہ خواتین کو موجودہ دور میں گھروں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، جبکہ نئی نسل کے سوالات اور ضروریات کو سمجھے بغیر مؤثر فیصلے کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کرپٹو کرنسی سمیت جدید معاشی اور مالیاتی معاملات میں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں مسلم اقلیتوں کو درپیش مسائل عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم عالمی اور علاقائی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کانفرنس کے تحت خصوصی ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جانی چاہئیں۔

کانفرنس میں ترکی، سوڈان، موریطانیہ، اردن، انڈونیشیا اور لیبیا سمیت مختلف ممالک سے 200 سے زائد مسلم اسکالرز شرکت کر رہے ہیں۔