جماعت اسلامی نے نہر خیام پر تعمیرات کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

محکمہ بلدیات، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)، سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے

October 30, 2026 · قومی
جماعت اسلامی نے نہر خیام پر تعمیرات کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

جماعت اسلامی نے نہر خیام پر تعمیرات کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

کراچی میں جماعت اسلامی نے کلفٹن کے علاقے میں نہر خیام پر جاری متنازع تعمیراتی سرگرمیوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

درخواست بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں محکمہ بلدیات، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)، سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق نہر خیام پر کمرشل سرگرمیاں شروع کی جارہی ہیں، جس سے بارشوں کے دوران قریبی رہائشی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ نالے کی گزرگاہ محدود ہونے سے بارش کا پانی آبادیوں میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ نہر خیام کے قدرتی بہاؤ، چوڑائی اور حدود میں تبدیلی کی جارہی ہے، جبکہ ماحولیاتی جائزے کے بغیر تعمیراتی کام شروع کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ تعمیرات سے متعلق پی سی ون، ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) اور سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت منظور شدہ منصوبہ بھی پیش نہیں کیا گیا۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نہر خیام پر جاری مبینہ غیرقانونی تعمیرات اور ڈھانچے ختم کرنے، کمرشل سرگرمیاں روکنے اور برساتی نالے کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 1982 کے منظور شدہ ماسٹر پلان کے برعکس نالے کی چوڑائی کم کرنا غیرقانونی ہے۔