لاہور کے لڑکے نے 3 کروڑ روپے کا سونا گھر سے چوری کرکے ممکنہ سسرال کو دے دیا

زیورات کی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے، رقم کا بڑا حصہ مبینہ طور پر لڑکی کے اہل خانہ نے ہڑپ کرلیا۔ والد

October 31, 2026 · جرم وسزا
لاہور کے لڑکے نے 3 کروڑ روپے کا سونا گھر سے چوری کرکے ممکنہ سسرال کو دے دیا

لاہور کے لڑکے نے 3 کروڑ روپے کا سونا گھر سے چوری کرکے ممکنہ سسرال کو دے دیا

لاہور میں عشق کی کہانی کا حیران کن انجام، بیٹے نے محبوبہ سے شادی کی خاطر گھر سے 70 تولے سونا چوری کرلیا، والد کے مطابق زیورات کی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے، رقم کا بڑا حصہ مبینہ طور پر لڑکی کے اہل خانہ نے ہڑپ کرلیا۔

لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں محبت کے نام پر گھر سے کروڑوں روپے مالیت کے سونے کی مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آگیا۔ شہری نے اپنے حقیقی بیٹے، اس کی مبینہ محبوبہ اور لڑکی کے اہل خانہ سمیت متعدد افراد کے خلاف تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

مقدمے کے مدعی علی رحمان کے مطابق ان کی اہلیہ نے گھر میں موجود تقریباً 70 تولے طلائی زیورات ایک بیگ میں رکھ کر کمرے کی الماری میں محفوظ کیے ہوئے تھے۔ کچھ عرصے بعد جب انہوں نے زیورات چیک کیے تو بیگ سے تمام سونا غائب تھا۔ گھر میں تلاش اور اہل خانہ سے پوچھ گچھ کے باوجود زیورات نہ ملنے پر انہیں اپنے بیٹے عمان پر شک ہوا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر عمان نے چوری سے متعلق بات چھپانے کی کوشش کی، تاہم بعد میں اس نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس کے فاطمہ نامی لڑکی سے تعلقات تھے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔

ایف آئی آر میں درج مؤقف کے مطابق فاطمہ اور اس کے اہل خانہ کو جب دونوں کے تعلقات کا علم ہوا تو انہوں نے عمان سے کہا کہ وہ اپنے گھر سے قیمتی اشیا اور سونا لے کر آئے۔ مدعی کے الزام کے مطابق عمان نے مختلف اوقات میں گھر سے زیورات نکال کر لڑکی کے اہل خانہ کے حوالے کیے، جنہوں نے انہیں لاہور اور قصور کے مختلف علاقوں میں سناروں کے ہاتھ فروخت کیا۔

علی رحمان کے مطابق چوری کیے گئے 70 تولے سونے کی اُس وقت کی مارکیٹ قیمت تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ روپے تھی۔ ان کا الزام ہے کہ زیورات فروخت کرنے کے بعد بیٹے کو مختلف اوقات میں 80 لاکھ روپے اور کچھ سونا واپس کیا گیا، جبکہ باقی تقریباً 3 کروڑ روپے لڑکی کے اہل خانہ نے اپنے پاس رکھ لیے۔

درخواست گزار نے اپنے بیان میں فاطمہ کے والد سرفراز، والدہ اور بہن ملائکہ سمیت دیگر افراد کو بھی مبینہ طور پر اس معاملے میں ملوث قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سونے کی فروخت سے متعلق ضمانتیں اور مالی لین دین بھی انہی افراد کے کھاتوں کے ذریعے ہوتے رہے۔

مدعی کے مطابق معاملہ سامنے آنے کے بعد گواہان محمد ذاکر خان اور قیصر عباس کی موجودگی میں بات چیت اور پنچایت بھی ہوئی، جہاں مبینہ طور پر رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا گیا، تاہم بعد میں ملزمان نے رقم کی واپسی میں ٹال مٹول شروع کر دی۔

رقم اور زیورات واپس نہ ملنے پر علی رحمان نے پولیس سے رجوع کیا اور تمام نامزد افراد کے خلاف چوری اور مال خرد برد کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرکے مسروقہ سونا اور رقم برآمد کرنے کی درخواست کی۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق تھانہ کوٹ لکھپت میں 29 اکتوبر 2026 کو درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی طور پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 380 اور 109 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کی گئی۔ بعد ازاں مقدمہ درج کرکے تفتیش انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دی گئی۔

واقعے نے علاقے میں خاصی توجہ حاصل کرلی ہے، تاہم مقدمے میں نامزد افراد پر عائد الزامات کی حتمی تصدیق پولیس تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گی۔