کراچی میں سمندر سے لوٹے چار ماہی گیر پراسرار طور پر انتقال کرگئے
چاروں ماہی گیر تقریباً ایک ماہ سمندر میں گزارنے کے بعد ایک ہفتہ قبل واپس کراچی پہنچے تھے
کراچی میں سمندر سے لوٹے چار ماہی گیر پراسرار طور پر انتقال کرگئے
کراچی میں سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے جانے والے چار ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پراسرار اموات کا معاملہ سامنے آیا ہے، تاہم تاحال ان کی موت کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سکھن پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں ماہی گیر تقریباً ایک ماہ سمندر میں گزارنے کے بعد ایک ہفتہ قبل واپس کراچی پہنچے تھے۔ واپسی کے چند روز بعد ان کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی اور یکے بعد دیگرے چاروں انتقال کرگئے۔
پولیس کے مطابق دو ماہی گیروں کی موت پانچ روز قبل ہوئی، جبکہ تیسرے ماہی گیر نے گزشتہ روز دم توڑا اور چوتھا ماہی گیر آج انتقال کرگیا۔ چاروں مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہے، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی اموات کو طبی موت قرار دیا۔
متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ماہی گیروں کو سمندر سے واپسی کے بعد گردوں میں درد کی شکایت ہوئی تھی۔ اہلخانہ کے مطابق بعض ماہی گیروں نے اپنی بیماری کو روحانی مسئلہ بھی قرار دیا تھا، تاہم ان کی طبیعت خراب ہونے اور اموات کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی۔
سکھن پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں ماہی گیروں کے اہلخانہ نے کسی قسم کی قانونی کارروائی کرنے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب مسلسل چار اموات کے باوجود یہ سوال برقرار ہے کہ آیا ماہی گیروں کی بیماری کا تعلق سمندر میں قیام کے دوران کسی آلودہ خوراک، پانی یا کسی اور طبی وجہ سے تھا۔
تاحال اس حوالے سے کسی حتمی طبی یا تحقیقی رپورٹ کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے چاروں ماہی گیروں کی اموات کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید معلومات کا انتظار ہے۔