ٹیکسلا میں بچوں کے سامنے پولیس تشدد سے کار سوار جاں بحق

اکمل خان کی موت پر لواحقین کا میوزیم روڈ پر احتجاج، گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں

October 31, 2026 · قومی
اکمل کی دکان کے اندر پولیس اہلکاروں سے بحث کا منظر، دوسری جانب مظاہرین نے سڑک بلاک کر رکھی ہے

اکمل کی دکان کے اندر پولیس اہلکاروں سے بحث کا منظر، دوسری جانب مظاہرین نے سڑک بلاک کر رکھی ہے

ٹیکسلا میں خانپور روڈ گانگو چک چوکی کے قریب گاڑی سڑک پر کھڑی کرنے کے تنازع پر پولیس کے مبینہ تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں اطلاعات کے مطابق بچوں کے سامنے پولیس اہلکاروں کی جانب سے اکمل خان نامی کو مبینہ طور پر اتنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ جاں بحق ہوگیا۔

لواحقین اور اہل علاقہ کے مطابق پولیس نے پہلے اکمل کو گرفتار کیا اور اسے ایک دکان نما کمرے میں لے گئے۔ اس کمرے میں اکمل اور پولیس اہلکاروں کے درمیان بحث کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔ یہاں پر اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس دلخراش واقعے کے بعد نوجوان کے ورثاء نے لاش ٹیکسلا میوزیم روڈ پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ اس احتجاج کے باعث میوزیم روڈ ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو گئی اور سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ احتجاج کرنے والوں نے ایک پولیس اہکار پر تشدد کیا جو زخمی ہوگیا، اس کی وردی پھٹ گئی۔ مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ اہلکار تشدد میں ملوث تھا۔ احتجاج میں شریک ایک شخص جس کا کہنا تھا کہ مرنے والا اس کا بھائی تھا نے بتایا کہ چار پولیس اہلکار واقعے میں ملوث تھے جنہوں نے شٹر نیچے کرکے اس کے بھائی پر تشدد کیا۔

مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ اس واقعے میں تھانہ ٹیکسلا پولیس کے اہلکار کاشف اور دیگر ملوث ہیں جبکہ اطلاع یہ بھی ہے کہ کچھ پیرا فورس کے اہلکار بھی اس واقعے میں ملوث ہیں۔

ورثاء کی جانب سے واقعے میں ملوث تمام اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔