بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری قومی سلامتی کا معاملہ ہے، چیئرمین نجکاری کمیشن
اہم پیش رفت، ڈسکوز کی نجکاری کا پلان، ایران کے واجبات کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری قومی سلامتی کا معاملہ ہے، چیئرمین نجکاری کمیشن
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری محض معاشی اصلاحات نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ایک اہم معاملہ ہے۔ حکومت نے ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ بنایا ہے، جن کے لیے ڈیو ڈیلیجنس کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری دستاویز اور جاری کردہ بیان کے مطابق، حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں تینوں ڈسکوز کی نجکاری کا عمل مکمل کر لیا جائے۔
چیئرمین نجکاری کمیشن نے مزید بتایا کہ حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے، اور 2027ء کی دوسری سہ ماہی میں ان کمپنیوں کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔ اسی طرح لاہور، ملتان، پشاور اور ہزارہ ڈسکوز کی نجکاری پر بھی کام جاری ہے، جبکہ 2027ء کے دوسرے نصف میں مزید تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی توقع ہے۔ محمد علی نے واضح کیا کہ اس عمل کا بنیادی مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی، خدمات کے معیار میں بہتری اور توانائی کے شعبے میں دیرپا اصلاحات متعارف کرانا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صارفین تیزی سے سولر سسٹم اور بیٹری سٹوریج کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، اور اگر بجلی کے شعبے میں ضروری اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں صارفین قومی گرڈ سے بجلی خریدنا چھوڑ سکتے ہیں۔
ادھر قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے تحریری جواب میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کو بجلی کے عوض 12 ملین ڈالر کی ادائیگی واجب الادا ہے۔ وزیر توانائی کے مطابق ایران سے 4 سرحدی ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعے مکران ریجن کو 204 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، اور اس بجلی کے بلوں کی وصولی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کرتی ہے۔ وزیر توانائی نے آئی پی پیز اور کیپسٹی پیمنٹس کے حوالے سے بتایا کہ سال 2024-25ء میں کمپنیوں کو 1669 ارب روپے جبکہ 2025-26ء میں 1711 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ 30 جون 2026ء تک بجلی کا گردشی قرضہ 1675 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔