امریکی کانگریس کے انتخابات کل۔سخت مقابلے متوقع۔ پیشگی ووٹنگ کا غیر معمولی رحجان
ری پبلکن پارٹی کو120 ویں کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے، جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو120 ویں کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
نیا ایوان 3 جنوری 2027 سے اپنے فرائض ادا کرنے کا آغاز کرے گا۔
انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کا مضبوط امکان ظاہر کیا جارہا ہے، تاہم سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔
انتخابی نتائج صدر ٹرمپ کے آئندہ 2 سال کے سیاسی ایجنڈے، قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ادھر،پولنگ سے قبل ووٹنگ کا غیر معمولی رجحان دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں انتخابات میں صرف 3 روز باقی رہنے کے باوجود ریکارڈ 5 کروڑ سے زائد امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کی صبح تک ملک بھر میں 5 کروڑ 5 لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے جاچکے ہیں، جو 2022 کے گزشتہ وسط مدتی انتخابات میں ہونے والی مجموعی پیشگی ووٹنگ سے تقریباً 50 لاکھ زیادہ ہیں۔
ٹیکساس میں اب تک 70 لاکھ سے زائد شہری پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں، جو 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں 15 لاکھ زیادہ ہیں۔ اسی طرح ہیوسٹن پر مشتمل ہیرس کاؤنٹی میں بدھ تک 8 لاکھ 62 ہزار 700 افراد ووٹ ڈال چکے تھے، 2022 میں اسی وقت یہ تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 500 تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پیشگی ووٹنگ میں اضافے اور سخت انتخابی مقابلوں نے کانگریس کے مستقبل کے حوالے سے ان انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔
ووٹرز کی یہ تعداد صرف رجسٹریشن کی بنیاد پر ہے اور اس سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ ووٹرز نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔ تاہم مختلف سروے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت پر عوامی عدم اطمینان اور کئی ریاستوں میں کانٹے کے مقابلوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔