ہنگو میں گھر کے اندر فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد قتل

دلخراش وارداتیں، سگے بھائی کی فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد قتل، کوئٹہ چمن شاہراہ بند

November 2, 2026 · اہم خبریں
ہنگو اور قلعہ عبداللہ میں فائرنگ کے واقعات کے بعد پولیس اور سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

ہنگو اور قلعہ عبداللہ میں فائرنگ کے واقعات کے بعد پولیس اور سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

 

ملک کے مختلف حصوں میں فائرنگ کے دلخراش اور پُرشدت واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق ہو گئے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں گھریلو تلخی یا دیگر وجوہات پر پیش آنے والے ایک خونی واقعے میں سگے بھائی نے فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے 6 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

پولیس ذرائع اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہنگو کے تھانہ دوآبہ کی حدود میں واقع علاقے سروخیل میں یہ اندوہناک واقعہ پیش آیا جہاں ملزم نے فائرنگ کر کے اپنے ہی سگے بھائی اور اس کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ملزم کا سگا بھائی نور رحمان، اس کی اہلیہ مریم، بیٹی حمزہ بی بی، 15 سالہ بیٹی جمیلہ، 3 سالہ بیٹا فہد اور ایک سال کا بیٹا افسر شامل ہیں۔ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاشوں کو فوری طور پر دوآبہ اسپتال منتقل کیا۔ ڈی پی او ہنگو صلاح الدین کنڈی نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے ہر پہلو سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے 3 افراد کو جاں بحق کر دیا ۔ مسلح ملزمان جاتے ہوئے 2 افراد کو اغوا کر کے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد مقتولین کے لواحقین اور علاقہ مکین سراپا احتجاج بن گئے۔ لواحقین نے لاشیں سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا جس کے باعث اہم ترین کوئٹہ چمن شاہراہ ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہو گئی۔

ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ نے احتجاج کرنے والے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور یقین دہانی کرائی کہ اغوا ہونے والے مغویوں کی بحفاظت بازیابی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ پولیس نے دونوں علاقوں میں مقدمات درج کر کے ملزمان کی تلاش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔