امریکا میں وسط مدنی انتخابات کیلیے پولنگ کا آغاز ہوگیا

پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا، دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی

November 3, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فوٹو امریکی میڈیا

فوٹو امریکی میڈیا

امریکی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 5 بجے ہوا، جب کہ دیگر ریاستوں نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے شروع ہوئی۔

انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں جبکہ سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، اس کے علاوہ 36 ریاستوں کے گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا، موجودہ انتخابی مقابلے میں ری پبلکنز کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے ڈیموکریٹس کو ہر ایوان میں کم از کم 4 نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے، انتخابات کے نتائج نہ صرف قانون سازی بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے باقی 2 سالہ دورِ صدارت کی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

رائٹرز اور اپسوس کے تازہ سروے کے مطابق کانگریس کے انتخابی بیلٹ پر ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز پر 8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، سروے میں 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ 38 فیصد نے ری پبلکنز کی حمایت کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 32 فیصد پر برقرار ہے، جو ان کی سیاسی مقبولیت کی کم ترین سطح 31 فیصد کے قریب ہے، سروے میں ایک ہزار 765 امریکی شہریوں کی رائے شامل کی گئی، جبکہ اس کے نتائج میں 2 پوائنٹس کی ممکنہ غلطی کا مارجن موجود ہے۔

یاد رہے کہ 5 کروڑ 80 لاکھ سے زائد امریکی شہری ڈاک اور قبل از وقت ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔ انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

ان نتائج سے طے ہوگا کہ آئندہ دو برس امریکی کانگریس پر ریپبلکنز کا کنٹرول برقرار رہے گا یا ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے سامنے بڑی رکاوٹ بننے میں کامیاب ہوں گے۔

مختلف عوامی جائزوں میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے تاہم حتمی نتائج سامنے آنے میں کئی ریاستوں میں بدھ یا اس کے بعد تک وقت لگ سکتا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے مشی گن سے سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر مختلف نسلی و مذہبی گروہوں سے نفرت کرنے کا الزام عائد کیا۔

انتخابات کے نتائج ٹرمپ کی مقبولیت اور ان کی جماعت کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق قومی سطح کے یہ سروے عوامی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم کانگریس کے اصل نتائج کا فیصلہ مختلف ریاستوں اور انتخابی حلقوں میں ہونے والے مقابلوں سے ہوگا، اس لیے ڈیموکریٹس کی سروے میں برتری کو انتخابی کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔