میرے بھائی کی دکان سیل کردی گئی، کہا کہ یہ افغان مہاجر ہے، حکومت خود مشکل میں ہے،کامران مرتضیٰ
حکومت کی مخالفت کرنے یا اسے سچ کا آئینہ دکھانے والوں کو اس طرح کے نوٹس بھیجے جاتے ہیں
میرے بھائی کی دکان سیل کردی گئی، کہا کہ یہ افغان مہاجر ہے، حکومت خود مشکل میں ہے،کامران مرتضیٰ
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ حکومت کی مخالفت کرنے یا اسے سچ کا آئینہ دکھانے والوں کو اس طرح کے نوٹس بھیجے جاتے ہیں، تاہم یہ اقدامات حکومت کی کمزوری اور چھوٹے پن کی علامت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کا نوٹس موصول ہونے پر اس کا جواب دیا جائے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے متعلق سوال پر کہا کہ ان کی باجوہ صاحب سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، تاہم انہوں نے ان کے واش روم میں گرنے یا گرائے جانے کی خبر سنی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ صحت یاب ہوگئے ہیں تو اللہ انہیں صحت دے، البتہ ملک کے حوالے سے ان کا کردار اچھا نہیں رہا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ جنرل (ر) باجوہ کی خوشگوار ملاقات سے متعلق سوال پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ دوستی، پرانا تعلق یا نیا رابطہ ہوسکتا ہے۔ ملاقات کی اصل نوعیت وہی لوگ بتا سکتے ہیں جو اس میں شریک تھے۔
ایف آئی اے کے نوٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں بھی ایک ’’محبت نامہ‘‘ ملنے کی اطلاع ہے، تاہم ابھی تک نوٹس موصول نہیں ہوا اور وہ اس بارے میں میڈیا پر ہی سن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوٹس ملا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
اپنے گھر اور اہل خانہ سے متعلق مبینہ کارروائیوں کے بارے میں سوال پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ حکومت مخالف آوازیں اٹھانے والوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہر کسی کا حق ہے، لیکن ایسے اقدامات سے حکومت کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تو وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔
حکومت کے صبر اور ان کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے متعلق سوال پر جے یو آئی رہنما نے کہا کہ حکومت خود بھی مشکلات کا شکار ہے اور آنے والے دنوں میں اس کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ’’ہارڈ اسٹیٹ‘‘ کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں، دیکھتے ہیں آگے کیا صورت حال بنتی ہے۔
مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں سے متعلق سوال پر کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان رات گئے واپس پہنچے تھے اور اس وقت وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے، اس لیے ان سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ آج مولانا کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقاتوں اور ان کے ایجنڈے سے متعلق انہیں مکمل معلومات نہیں ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات متوقع ہے۔ ممکن ہے کہ محمود خان اور راجہ ناصر عباس بھی ان کے ہمراہ ہوں، تاہم شریک ہونے والے افراد کی حتمی فہرست سے وہ آگاہ نہیں ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے سوال پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت جمہوری اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن جدوجہد کرے گی اور سڑکوں پر احتجاج بھی جمہوری جدوجہد کا حصہ ہوسکتا ہے۔
سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی قوت کی مداخلت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں جو ہدایات یا وقت دیا جاتا ہے، وہ اسی کے مطابق آگے بڑھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان کا وقت مکمل ہوگا تو وہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر رہنماؤں کے پاس آجائیں گے۔