پولیو فری پاکستان کا حصول بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ضلع خیبر میں رواں سال پولیو کا تیسرا کیس سامنے آگیا،وزیراعظم کا ہنگامی اقدامات پر زور
پولیو سے پاک پاکستان کا حصول بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریف ۔ فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کا حصول ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم ہمارا عزم اور حوصلہ اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ صوبوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے پاکستان سے پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے ملک بھر میں انسداد پولیو مہمات کے کامیاب انعقاد پر فرنٹ لائن پولیو ورکرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت، عزم اور خدمات کو سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انسداد پولیو مہمات کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی مسلسل رسائی اور ان کی سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج کو مزید بہتر بنایا جائے۔انہوں نے خصوصی طور پر پولیو سے متاثرہ اور پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج بڑھانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے سکیورٹی کے حوالے سے حساس اور مشکل علاقوں میں انسداد پولیو مہمات کی رسائی میں نمایاں بہتری کو قابل تحسین قرار دیا، تاہم ملک میں سامنے آنے والے حالیہ پولیو کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خلاف پہلے سے بہتر حکمت عملی اور بھرپور جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر، وزیر مملکت، سیکرٹری قومی صحت اور انسداد پولیو ٹیم کے اراکین کو فوری طور پر چاروں صوبوں کے دورے کرنے اور وزرائے اعلیٰ و چیف سیکرٹریز سے ملاقاتوں کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد انسداد پولیو کا مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
اجلاس کو ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور انسداد پولیو کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع خیبر سے پولیو کا نیا کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد رواں سال ملک میں پولیو کیسز کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
بریفنگ کے مطابق 2026 میں خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے 3، بنوں سے 3 اور شمالی وزیرستان سے ایک پولیو کیس سامنے آیا۔ ضلع خیبر سے سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز افغانستان کے پولیو وائرس سے متعلق ہیں۔
رواں سال سندھ میں ضلع کراچی شرقی اور ضلع سجاول سے ایک، ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغانستان سے ہونے والی آمد و رفت پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں فروری 2025 سے پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ بلوچستان سے 2025 اور 2026 میں پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان پہلے سے پولیو سے پاک ہیں۔
بریفنگ کے مطابق رواں سال سندھ کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مقدار میں کمی دیکھی گئی ہے۔ انسداد پولیو ٹیموں کی سکیورٹی بہتر بنانے اور انہیں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بہتر رسائی دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔