متحدہ عرب امارات میں9گھنٹے سے زیادہ گاڑی چلانے پر پابندی عائد

ڈرائیوروں کی حفاظت اور ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے متحدہ عرب امارات کا نیا اقدام

November 5, 2026 · امت خاص

متحدہ عرب امارات میں 24 گھنٹوں کے دوران 9 گھنٹے سے زیادہ ڈرائیونگ ممنوع، نئے قوانین یکم جنوری سے نافذ ہوں گے

متحدہ عرب امارات نے سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی روک تھام اور ڈرائیوروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے نئے وفاقی ٹریفک ضوابط متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت کسی بھی 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ 9 گھنٹے گاڑی چلانے کی اجازت ہوگی۔ نئے قوانین یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہوں گے۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی کابینہ کے فیصلے نمبر 174 برائے 2026 کے آرٹیکل 7 کی شق 2 میں شامل ہے، جو 2024 کے وفاقی ٹریفک قانون نمبر 14 کے نفاذ سے متعلق ضوابط کا حصہ ہے۔ متحدہ عرب امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے وام نے بھی نئے ضوابط اور ان کے نفاذ کی تاریخ کی تصدیق کی ہے۔

نئے قانون کے تحت 9 گھنٹے کی ڈرائیونگ کی حد صرف ٹرک اور ٹیکسی ڈرائیوروں تک محدود نہیں بلکہ گاڑی چلانے والوں کی عمومی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لیے قانون کی عبارت عام کار اور موٹرسائیکل چلانے والوں سمیت تمام ڈرائیوروں سے متعلق ہے۔

تاہم مختلف اقسام کے ڈرائیوروں کے لیے اس حد کی نگرانی اور عملی نفاذ کا تفصیلی طریقہ ابھی واضح نہیں کیا گیا۔ وفاقی ٹریفک کونسل کو ضرورت کے مطابق 9 گھنٹے کی مقررہ حد میں تبدیلی کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

تھکاوٹ یا غنودگی کی حالت میں ڈرائیونگ پر پابندی

نئے ضوابط کے مطابق کسی بھی ڈرائیور کو ایسی تھکاوٹ یا غنودگی کی حالت میں گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہوگی جس سے محفوظ ڈرائیونگ کی صلاحیت متاثر ہوتی ہو۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی شخص صرف چند گھنٹے گاڑی چلانے کے بعد بھی نیند یا شدید تھکاوٹ محسوس کرے تو اسے ڈرائیونگ روک دینی چاہیے۔ یہ پابندی 9 گھنٹے کی مقررہ حد سے الگ ہے اور کم وقت ڈرائیونگ کرنے والے افراد پر بھی لاگو ہوگی۔

2025 میں تھکاوٹ اور غنودگی سے 20 حادثات ریکارڈ

خلیج ٹائمز نے متحدہ عرب امارات کی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ 2025 میں ڈرائیوروں کی تھکاوٹ اور غنودگی کے باعث 20 ٹریفک حادثات ریکارڈ کیے گئے۔

29 اکتوبر کو دبئی پولیس نے بھی تھکاوٹ کی حالت میں ڈرائیونگ کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق امارات روڈ ای 611 پر ابوظہبی کی جانب جانے والا ایک ٹرک ڈرائیور دوران سفر اونگھ گیا، جس کے باعث گاڑی دھاتی حفاظتی رکاوٹ سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں اور موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی۔

دبئی پولیس کے ٹریفک شعبے کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جمعہ سالم بن سویدان نے ڈرائیوروں پر زور دیا تھا کہ وہ سفر سے پہلے مناسب آرام کریں اور غنودگی یا تھکاوٹ محسوس ہونے پر محفوظ مقام پر گاڑی روک دیں۔

تھکاوٹ کی نمایاں علامات کیا ہیں؟

سڑکوں کی حفاظت سے متعلق تنظیم روڈ سیفٹی یو اے ای کے مطابق بار بار جمائیاں آنا، آنکھوں میں جلن یا بوجھل پن، ردعمل میں تاخیر اور سر سیدھا رکھنے میں دشواری تھکاوٹ کی نمایاں علامات ہیں۔

اس کے علاوہ گاڑی کا لین سے ہٹنا، رفتار میں غیر ارادی تبدیلی اور سفر کے پچھلے چند کلومیٹر یاد نہ رہنا بھی خطرے کی نشانیاں ہوسکتی ہیں۔

تنظیم نے طویل سفر سے پہلے 7 سے 8 گھنٹے کی بلا تعطل نیند لینے اور کم از کم ہر 2 گھنٹے بعد تقریباً 15 منٹ کا وقفہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم یہ حفاظتی سفارشات ہیں، نئے قانون میں لازمی قرار دیے گئے وقفوں کی تفصیل نہیں۔

جرمانے اور نگرانی کا طریقہ تاحال واضح نہیں

دستیاب ضوابط کی رپورٹنگ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 9 گھنٹے کی ڈرائیونگ کی حد پر عمل درآمد کے لیے گاڑی چلانے کا دورانیہ کس طرح ریکارڈ کیا جائے گا، وقفوں کا کوئی مخصوص نظام لازمی ہوگا یا خلاف ورزی پر کتنا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اسی طرح خودکار کیمروں یا تمام ڈرائیوروں کے لیے لازمی ٹریکنگ ایپ کے ذریعے نگرانی سے متعلق بھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ متعلقہ حکام کی مزید ہدایات کے بعد ان معاملات کی وضاحت ہوسکے گی۔

نئے ٹریفک ضوابط میں دیگر تبدیلیاں بھی شامل

سرکاری خبر رساں ادارے وام کے مطابق یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے والے وسیع تر ٹریفک ضوابط میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، الیکٹرک اسکوٹرز کے اجازت ناموں، بچوں کی حفاظتی نشستوں اور ڈیلیوری ڈرائیوروں کے لیے بھی نئے تقاضے شامل کیے گئے ہیں۔

نئے قواعد کے تحت ڈیلیوری موٹرسائیکل سواروں کو آرڈر پہنچانے کے دوران پیچھے مسافر بٹھانے اور سامان کی ترسیل کے لیے پشت پر بیگ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ سامان کی ترسیل کے لیے منظور شدہ آلات استعمال کرنا ہوں گے۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہریوں سمیت تمام ڈرائیوروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے والے نئے ٹریفک ضوابط سے آگاہ رہیں اور دوران سفر تھکاوٹ یا غنودگی کی علامات کو نظرانداز نہ کریں۔