جلاوطنی میں رہنے کے بجائے وطن میں مرنا پسند کروں گی،شیخ حسینہ
بیرونِ ملک جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بجائے اپنے ملک میں جیل جانے یا موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جلاوطنی میں رہنے کے بجائے وطن میں مرنا پسند کروں گی،شیخ حسینہ
ڈھاکا: بنگلا دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے رواں سال دسمبر میں وطن واپس آنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیرونِ ملک جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بجائے اپنے ملک میں جیل جانے یا موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کو ای میل کے ذریعے دیے گئے انٹرویو میں شیخ حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ اگر موت ان کا مقدر ہے تو وہ اپنے وطن میں اپنے لوگوں کے درمیان مرنا پسند کریں گی۔
شیخ حسینہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ ان کے دورِ حکومت میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق احتجاجی تحریک کے دوران بنگلا دیش میں تقریباً 1400 افراد جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں 2025 میں ڈھاکا کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے مظاہروں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
سابق وزیراعظم نے ٹریبونل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے اور کسی بھی غلط اقدام میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔
بنگلا دیش متعدد مرتبہ بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر چکا ہے، تاہم اب تک انہیں بنگلا دیش کے حوالے نہیں کیا گیا۔
شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی ایسے وقت میں زیرِ بحث آئی ہے جب ان کی جماعت عوامی لیگ پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پابندی عائد ہے اور اسے فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمٰن اقتدار میں آئے۔
شیخ حسینہ نے موجودہ حکومت پر اپنے سیاسی حامیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ہزاروں حامی گرفتار کیے گئے یا روپوش ہونے پر مجبور ہوئے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ گرفتاریاں مخصوص جرائم کے الزامات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔