مرتضیٰ وہاب جعلی اور قبضہ میئر ہیں، حافظ نعیم الرحمٰن کی تنقید
اختیارات کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے کام ادھورے چھوڑ کر نہیں جائے گی
مرتضیٰ وہاب جعلی اور قبضہ میئر ہیں، حافظ نعیم الرحمٰن کی تنقید
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جعلی اور قبضہ میئر ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کا پورا نظام ایک فراڈ ہے۔
ناظم آباد میں سرکاری اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ وہ اختیارات کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور اپنے کام ادھورے چھوڑ کر نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کاموں پر بعض لوگ حیران ہیں اور روزانہ پوچھتے ہیں کہ یہ سب کیسے کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کراچی میں سرکاری اسکولوں کا تصور ہی تبدیل کردیا گیا ہے، جس کے باعث والدین اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں داخل کرانے پر مجبور ہیں۔ نجی اسکولوں میں بھی مختلف درجے ہیں، جہاں صرف چند فیصد افراد مہنگی فیس ادا کرکے معیاری تعلیم حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ متوسط طبقہ مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اب یہ اسکول نجی تعلیمی اداروں کا مقابلہ کریں گے۔ ان کے مطابق مقابلہ معیاری تعلیم اور سہولتوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسی شخصیات بھی سرکاری اسکولوں سے تعلیم حاصل کرکے آگے آئیں، لیکن حکمرانوں نے ان اداروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ شہریوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 130 روپے تک ٹیکس وصول کر رہی ہے، لیکن عوام کو اس کے بدلے بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی تو یہ قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ نعمت اللہ خان کے دور میں سرکاری اسکول بلدیاتی اداروں کے ماتحت تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔ ان کے بقول گزشتہ 40 برسوں کے دوران دو جماعتیں اقتدار میں رہیں اور صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ بچوں کو درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا پڑی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کے بعد اسکول دوبارہ ٹاؤنز کے حوالے کیے گئے۔ ان کے مطابق ٹاؤنز کا نظام ملنے کے بعد جماعت اسلامی نے کھنڈر بنی سڑکوں اور دیگر شہری مسائل کو بہتر بنانے کے لیے کام شروع کیا۔