وزیراعظم کا ٹی ڈی اے پی میں اصلاحات کا فیصلہ، 12 ماہ کا منصوبہ پیش
وزیراعظم کی زیر صدارت جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ادارے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیراعظم کا ٹی ڈی اے پی میں اصلاحات کا فیصلہ، 12 ماہ کا منصوبہ پیش
وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی برآمدات میں اضافے، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور مقامی صنعتوں کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منظوری دے دی۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ٹی ڈی اے پی کی کارکردگی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ادارے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے مقامی صنعتوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا انتہائی اہم ہے۔ جدید خطوط پر استوار ٹی ڈی اے پی اس مقصد کے حصول میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مکمل نظام اور ویلیو چین تیار کی جائے، جبکہ ادارے میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بناتے ہوئے تربیت یافتہ افرادی قوت بھرتی کی جائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اداروں میں حقیقی اصلاحات اسی وقت ممکن ہیں جب ملازمین کی ترقی کو کارکردگی اور مقررہ اہداف کے حصول سے منسلک کیا جائے۔ انہوں نے ٹی ڈی اے پی کے مالی اور انتظامی امور کے آڈٹ کے لیے اچھی شہرت رکھنے والی نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی سطح پر کامیاب تجارتی ادارے مقامی منڈیوں کی ترقی، برآمد کنندگان کی استعداد بڑھانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے مربوط سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرز پر ٹی ڈی اے پی کو بھی عالمی معیار کا تجارتی فروغ دینے والا ادارہ بنانے کے لیے اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔
مجوزہ اصلاحات میں ادارے کے بنیادی کاموں کو آٹھ شعبوں تک محدود کرنا، بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی تنظیم نو، علاقائی نیٹ ورک کو مؤثر بنانا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہے۔ اس کے علاوہ ادارے کی کارکردگی جانچنے کے لیے قابل پیمائش اہداف اور آزاد تھرڈ پارٹی جائزے کا نظام بھی متعارف کرانے کی تجویز دی گئی۔
اجلاس میں اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے منظوری، منصوبہ بندی، نفاذ اور آزادانہ جائزے پر مشتمل 12 ماہ کا مرحلہ وار منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحات آئندہ سال کے وسط تک مکمل کرکے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں برآمدات بڑھانے کی وسیع صلاحیت موجود ہے اور حکومت مقامی صنعتوں سمیت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولتیں فراہم کر رہی ہے تاکہ ملکی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مواقع مل سکیں۔
اجلاس میں وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ اور ڈاکٹر مصدق ملک سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔