ٹیکنالوجی کمپنیوں کاتبا ہ کن دن۔ امریکی سٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی سے 25 کھرب ڈالر ڈوب گئے
ایشائی بازارحصص بھی شدید متاثر
تصویر: سوشل میڈیا
وال اسٹریٹ پر مالیاتی زلزلے سے عالمی منڈیوں میں شدید مندی کے نتیجے میں مارکیٹ ویلیو میں سے25 کھرب ڈالر ڈوب گئے۔ یہ گراوٹ ان خدشات کے باعث آئی کہ مڈٹرم (وسطیٰ) انتخابات میں ڈیموکریٹس کی فتوحات اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی رفتار کو بریک لگا سکتی ہیں۔
جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر جنوبی کوریا کا کوسپی (Kospi) انڈیکس تقریباً 9 فیصد تک گر گیا، جس کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج میں 20 منٹ کے لیے ٹریڈنگ کو روکنا پڑا۔ جمعرات کو ناسڈاک (Nasdaq) میں ساڑھے پانچ فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی تھی اور وہ مارکیٹ کی زبان میں “کریکشن” (correction) کے مرحلے میں داخل ہو گیا، کیونکہ یہ 6 اکتوبر کو قائم ہونے والی اپنی ریکارڈ بلند ترین سطح سے 10 فیصد سے زیادہ نیچے آ چکا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے غلبے والے ناسڈاک انڈیکس کو اپریل 2025 کے بعد اپنے بدترین دن کا سامنا کرنا پڑا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر پر بھاری ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جمعرات کی اس بڑے پیمانے پر فروخت نے دیگر بڑے انڈیکسز کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے S&P 500 اور ڈاؤ (Dow) دونوں نے بھی اپریل 2025 کے بعد اپنے بدترین دن ریکارڈ کیے۔
یہ بدھ کے روز مڈٹرم انتخابات کے بعد آنے والی تاریخی تیزی کا بالکل الٹ تھا، جب ڈاؤ انڈیکس 1,569 پوائنٹس بڑھ گیا تھا اور ناسڈاک میں ایک اعشاریہ چوالیس فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ لیکن جمعرات تک ڈاؤ1اعشاریہ 838پوائنٹس نیچے بند ہوا، اس طرح بدھ کے روز کا تمام منافع خاک میں مل گیا۔ اگرچہ بدھ کو بڑے انڈیکسز اوپر گئے تھے، لیکن پسِ پردہ سیمی کنڈکٹر چپ بنانے والی کمپنیوں اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سے وابستہ اداروں کے حصص گر رہے تھے۔ جمعرات کو فروخت کا یہ دباؤ مزید شدت اختیار کر گیا، جس نے انڈیکسز کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا۔
اس مندی کی سب سے بڑی وجہ ٹیکساس کے گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی ہے، کیونکہ یہ ریاست اے آئی کی ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، جہاں گوگل، میٹا، اوریکل اور اوپن اے آئی (OpenAI) جیسی کمپنیوں نے ڈیٹا سینٹرز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
ٹیکساس کی نو منتخب گورنر جینا ہینوجوسا (Gina Hinojosa) نے اپنی انتخابی مہم میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر عارضی پابندی (moratorium) عائد کرنے اور ان کو بنانے والے کاروباروں کے لیے مخصوص ٹیکس مراعات ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
چپ بنانے والی کمپنیوں اور ڈیٹا سینٹرز کی تعمیراور اے آئی کے عروج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اداروں کے حصص فروخت کیے جا رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار ٹیکساس جیسی ریاستوں میں (جو منصوبہ بند ڈیٹا سینٹرز کے مراکز ہیں) ڈیموکریٹس کی جیت کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جمعرات کو اینویڈیا (Nvidia) کے شیئرز9اعشاریہ 3 فیصد گرے تھے، جس سے اس سال کے دوران ہونے والا ان کا تمام منافع ختم ہو گیا۔
چپ بنانے والی کمپنیوں کے ایک اہم انڈیکس میں 12اعشاریہ 3 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ ساڑھے چھ سال میں اس کا بدترین دن تھا۔ اس کے علاوہ، ایلون مسک کی کمپنیوں ٹیسلا (Tesla) اور اسپیس ایکس (SpaceX) کے حصص میں بالترتیب 11 فیصد اور 9 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
وال اسٹریٹ سے اٹھنے والی مندی کی لہر نے ایشیائی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔جمعہ کو جاپان کا اسٹاک مارکیٹ انڈیکس کاروبار کے آغاز پر چھ فیصد سے زیادہ نیچے گر گیا، جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں سات فیصد سے زیادہ کی مندی دیکھی گئی۔ ہانگ کانگ اور شنگھائی کی اسٹاک مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار رہیں۔
مریکا میں انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کی کامیابیوں نے یہ امکان بڑھا دیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندیاں یا سخت شرائط عائد کی جا سکتی ہیں۔ عوام پہلے ہی ان مراکز کی وجہ سے بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں پر ناراض ہیں۔
اگر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سست پڑ گئی تو مصنوعی ذہانت کے لیے چپس، بجلی اور دیگر مصنوعات اور خدمات کی طلب بھی متاثر ہوگی۔ یوں ایک پوری صنعت کی ترقی کو دھچکا لگ سکتا ہے۔مالیاتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے آئی کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی تھیں اور یہ ایک عارضی غبارہ یا ببل تھا۔