لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، اے کیو آئی 273 ریکارڈ

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹوں، پلاسٹک کے استعمال اور تجارتی کچن کی نگرانی کے لیے خصوصی کارروائیاں کی گئیں۔مریم اورنگزیب

November 7, 2026 · ماحولیاتی تغیر
لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، اے کیو آئی 273 ریکارڈ

لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی، اے کیو آئی 273 ریکارڈ

لاہور: شہر میں فضائی آلودگی کی شرح میں اضافہ برقرار ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس 273 ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہوا کی رفتار 5 کلومیٹر فی گھنٹہ اور رخ شمال مغرب کی جانب ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں انسدادِ سموگ مہم کے تحت کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صنعتی یونٹس، اینٹوں کے بھٹوں، پلاسٹک کے استعمال اور تجارتی کچن کی نگرانی کے لیے خصوصی کارروائیاں کی گئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں 258 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا گیا، خلاف ورزیوں پر 5 یونٹس سیل اور 10 لاکھ 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

اسی طرح 452 اینٹوں کے بھٹوں کی جانچ پڑتال کے دوران 3 بھٹے مسمار، 4 سیل اور 4 کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 7 لاکھ روپے جرمانہ بھی وصول کیا گیا۔

غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف کارروائی میں 153 مقامات کی جانچ کی گئی۔ اس دوران 3 مقامات سیل، ایک ہزار 462 کلوگرام پلاسٹک ضبط اور 65 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

باربی کیو پوائنٹس اور تجارتی کچن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 121 مقامات کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 12 سیل کیے گئے، جبکہ 63 مقامات پر دھواں کھینچنے والے آلات نصب کرائے گئے۔ اس کارروائی کے دوران ایک لاکھ 80 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

حکام کے مطابق دھوئیں کے اخراج میں کمی کے لیے تجارتی کچن اور باربی کیو پوائنٹس پر سکشن ہڈز کی تنصیب اور ان کی مؤثر کارکردگی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی نگرانی کے لیے ڈرون، نائٹ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈ بھی متحرک ہیں۔ اڑتی ہوئی دھول کی روک تھام کے سلسلے میں 17 مقامات کا معائنہ کیا گیا، 9 کو نوٹس جاری، ایک مقام سیل اور 2 مقامات پر پانی کے چھڑکاؤ کے آلات نصب کیے گئے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آلودگی کے مقامی ذرائع کی روک تھام، مسلسل نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کے لیے کارروائیاں بیک وقت جاری ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے شہریوں اور کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومتی کوششوں میں تعاون کریں۔ کسان فصلوں کی باقیات جلانے سے گریز کریں، شہری غیر ضروری طور پر گاڑیاں سڑکوں پر نہ لائیں اور اپنی گاڑیوں کی فٹنس برقرار رکھیں۔

سینئر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں انسانی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں، اس لیے گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد ہی سڑکوں پر چلایا جائے۔