مسٹر پتلو کی 10 نومبر تک عبوری ضمانت منظور

مسٹر پتلو ضمانت کے حصول کے لیے ویل چیئر پر عدالت میں پیش ہوئے۔

November 7, 2026 · قومی
مسٹر پتلو کی 10 نومبر تک عبوری ضمانت منظور

مسٹر پتلو کی 10 نومبر تک عبوری ضمانت منظور

ٹک ٹاکر محمد انصر محمود عرف مسٹر پتلو کو عدالت سے ریلیف مل گیا۔ ڈسکہ کی مقامی عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج محمد عرفان نسیم تارڑ کی سربراہی میں ان کی 10 نومبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی۔ ذرائع کے مطابق مسٹر پتلو ضمانت کے حصول کے لیے ویل چیئر پر عدالت میں پیش ہوئے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی قتل بالسبب، غیرقانونی اجتماع، ہنگامہ آرائی اور بھگدڑ کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں مسٹر پتلو کی 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے عدالت کے سامنے سرنڈر کیا اور وہ اپنے قانونی حق کے تحت متعلقہ عدالت سے رجوع کرنا چاہتا ہے۔ عدالت نے اسے 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی مہلت دی، جبکہ مقررہ تاریخ کو عدالتی وقت ختم ہونے پر حفاظتی ضمانت خود بخود غیر مؤثر ہو جائے گی۔

دوسری جانب مسٹر پتلو نے اپنے پہلے ویڈیو بیان میں خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور مکمل تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت وہ اسپتال میں زیر علاج تھے اور کمر کی تکلیف کے باعث چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے شخص کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی اس سانحے کا اتنا ہی دکھ ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کی کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں بلاوجہ ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔

مسٹر پتلو کے مطابق ان کی شادی کی تقریبات 5، 6 اور 7 نومبر کو ہونا تھیں۔ انہوں نے یہ تقریب عوام کے لیے بھی رکھی تھی، جہاں غریب بچیوں کی شادیوں میں مدد، راشن اور تحائف تقسیم کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریب کے انعقاد سے قبل انہوں نے متعلقہ اجازت نامہ بھی حاصل کیا تھا اور لوگوں کی حفاظت کے حوالے سے ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ تقریب سے ایک روز قبل اسی گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ان کی کمر کی ڈسک متاثر ہوئی، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے بقول وہ اگلے روز بھی علاج اور ایم آر آئی کے لیے بشیر اسپتال میں موجود تھے، اسی دوران انہیں بھگدڑ کے واقعے کی اطلاع ملی اور انہوں نے پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

مسٹر پتلو نے مقدمے میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں انہیں اسٹیڈیم میں موجود ظاہر کیا گیا ہے، حالانکہ وہ اس وقت اسپتال میں تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ اور اسپتال کا ریکارڈ چیک کرکے مکمل تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد لوگ ان کے گھر اور فارم ہاؤس پہنچ گئے تھے، جہاں سامان بکھر گیا، تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال سنبھالی۔ اپنے والد کی خراب صحت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہیں۔

مسٹر پتلو کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی شادی پاکستان میں منعقد کرکے ملک کی نمائندگی کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ تقریب میں قومی پرچم لگائے گئے اور سب سے پہلے قومی ترانہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان کے بقول غریب بچیوں کی شادیوں کے لیے مدد اور شادی میں ملنے والے تحائف عوام میں تقسیم کرنے کے اعلان کو بھی ان کے خلاف منفی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔