ٹرمپ انتظامیہ کیلیفورنیا کے انتخابی مقدمے سے دستبردار ہو گئی
امریکی محکمۂ انصاف نے کیلیفورنیا اور لاس اینجلس کاؤنٹی سے تقریباً 20 ہزار ایسے ووٹوں کی جانچ پڑتال اور انہیں الگ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا جنہیں انتظامیہ نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں کے ووٹ قرار دیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کیلیفورنیا کے انتخابی مقدمے سے دستبردار ہو گئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کیلیفورنیا میں انتخابی طریقۂ کار سے متعلق دائر مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ پیش رفت وفاقی حکومت کو مختلف عدالتی فورمز پر ناکامیوں اور کیلیفورنیا کے حکام کی مخالفت کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف نے کیلیفورنیا اور لاس اینجلس کاؤنٹی سے تقریباً 20 ہزار ایسے ووٹوں کی جانچ پڑتال اور انہیں الگ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا جنہیں انتظامیہ نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں کے ووٹ قرار دیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ ان ووٹوں کو اس وقت تک شمار نہ کیا جائے جب تک متعلقہ ووٹرز کی شہریت کی تصدیق نہ ہو جائے۔ تاہم کیلیفورنیا کے حکام نے وفاقی حکومت کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا، جس کے بعد محکمۂ انصاف نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران امریکی ضلعی جج ڈیوڈ کارٹر نے حکومتی درخواست پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام سے اہل ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں اور انتخابی عمل میں الجھن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ جج نے جاری انتخابات کے دوران طریقۂ کار میں تبدیلی کو بھی غیر معمولی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب محکمۂ انصاف کا مؤقف تھا کہ متنازع ووٹوں کو دیگر ووٹوں سے الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ ایک مرتبہ گنتی میں شامل ہونے کے بعد انہیں الگ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
امریکی سپریم کورٹ نے انتخابات سے ایک روز قبل ٹرمپ انتظامیہ کی ہنگامی اپیل مسترد کر دی تھی۔ اس سے پہلے ماتحت عدالتیں اور اپیلٹ کورٹ کا نو رکنی سرکٹ بھی انتظامیہ کے خلاف فیصلے دے چکے تھے۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد محکمۂ انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ اب مطلوبہ عدالتی ریلیف حاصل کرنا ممکن نہیں رہا، جس کے بعد جمعے کو مقدمہ باضابطہ طور پر واپس لینے کی درخواست دائر کر دی گئی۔
ادھر انتخابی عملے کو فوجداری کارروائی کی دھمکیاں دینے سے متعلق مزدور تنظیموں اور حقِ رائے دہی کے لیے کام کرنے والے گروپس کے قانونی اعتراضات بھی حل کر لیے گئے یا واپس لے لیے گئے ہیں۔