خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور پولیس کی جدید کاری کے لیے جامع ایکشن پلان تیار

وفاق اور صوبائی حکومت ایک پیج پر ہیں ، اس اشتراکِ عمل کے مثبت اثرات جلد عوام کے سامنے آئیں گے

November 8, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور/ اسلام آباد:وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت نے باہمی تعاون سے صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے 160 ارب روپے کے تاریخی سیکیورٹی پیکج کو حتمی شکل دے دی ہے۔ حکام کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومت اس معاملے پر ایک پیج پر ہیں اور اس اشتراکِ عمل کے مثبت اثرات جلد عوام کے سامنے آئیں گے۔

حالیہ عرصے میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں بے شمار دہشت گرد واصلِ جہنم کیے جا چکے ہیں، جن میں لکی مروت میں خوارج کے اہم کمانڈر کی ہلاکت بھی شامل ہے۔ صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی ہے، یہ ہماری اپنی جنگ ہے اور اس میں شکست کا کوئی امکان نہیں۔

جاری روان سال کے دوران صرف پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی بہتری پر 70 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں،کے پی پولیس کو 59.8 ارب روپے (33.4 ارب انفراسٹرکچر اور 26.4 ارب روپے پروکیورمنٹ کے لیے)۔سی ٹی ڈی کو10.3 ارب روپے (5.4 ارب انفراسٹرکچر اور 4.9 ارب روپے پروکیورمنٹ کے لیے)۔

پولیس اور سی ٹی ڈی کو بلٹ پروف گاڑیاں، جیمرز، کاؤنٹر ڈرونز اور پروٹیکٹو گیئرز (100 فیصد تک) فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ اے پی سیز (APCs) کی دستیابی کو 80 فیصد تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، نازک اور کمزور (Vulnerable) پولیس اسٹیشنز اور چیک پوسٹوں کو 100 سے 160 دنوں کے اندر 75 فیصد تک مکمل فورٹیفائی (محفوظ) کر دیا جائے گا۔

 ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں اینٹی ڈرون سسٹم کے ساتھ ‘سیف سٹی پراجیکٹس’ قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ 10 اضلاع میں انٹیلیجنس معلومات کے لیے ‘نرو سینٹرز’ فعال اور ‘سیف سٹی اتھارٹی’ قائم کی جا رہی ہے۔

 دہشت گردی کے مقدمات میں گواہوں، ججوں اور پراسیکیوٹرز کی جانوں کی حفاظت اور شناخت چھپانے کے لیے ‘اینٹی ٹیررازم فیس لیس کورٹس’ کے قیام کی قانونی ترامیم بھجوا دی گئی ہیں۔

فتنہ الخوارج کے بیانیے کی روک تھام کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹولز کے ذریعے سوشل میڈیا مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ مواصلاتی سہولیات سے محروم علاقوں میں آڈیو/ویڈیو سیٹلائٹ سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔

پولیس فورس میں نفری کی 15 فیصد کمی کو کم کر کے 5 فیصد پر لانے کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ پاک آرمی کی مدد سے پولیس کو ڈرون ٹیکنالوجی، سنائپنگ اور ایویژو ڈرائیونگ کی سپیشلائزڈ ٹریننگ دی جائے گی۔

پولیس کی قربانیوں کے اعتراف میں شہداء پیکج اور سیکیورٹی چیلنج الاؤنس میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے بعد کے پی پولیس کی تنخواہیں اور شہداء پیکج اب پورے پاکستان میں سب سے بہتر ہو جائیں گے۔

بڑے شہروں کے 406 پولیس اسٹیشنز میں سمارٹ فرنٹ ڈیسک قائم کیے جائیں گے اور ڈسٹرکٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز کو تحصیل سطح تک پھیلایا جائے گا۔ بالخصوص ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) میں تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ پولیس لائنز اور سولرائزڈ، جدید پولیس سٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لاتے ہوئے سہولت کاروں کی گرفتاری، فورتھ شیڈول کے افراد کی ری ویریفیکیشن، اور بھتہ خوری و اسمگلنگ کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی اسلام آباد سے طے ہوگی، کابل یا قندھار سے نہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور جو عناصر پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کریں گے ان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

صوبائی بجٹ سے 45 ارب روپے اور وفاق کی جانب سے 25 سے 30 ارب روپے کی فراہمی کے ساتھ حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امن و امان کے قيام کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔