گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی پر اعلیٰ سطح بریفنگ

فنڈز اور نفری کی شدید کمی کے انکشافات، مستقبل کے لیے 70 ارب روپے کا سیکیورٹی پلان تیار

November 8, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور: گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز پر ایک خصوصی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کی۔ اجلاس میں صوبائی ایڈوائزرز، اعلیٰ سول افسران اور میڈیا نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ایڈوائزر ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کفایت اللہ خان اور سیکریٹری ہوم امجد علی خان نے شرکاء کو صوبے میں سیکیورٹی صورتحال، درپیش چیلنجز اور پیشگی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی جس میں گورنر فیصل کریم کنڈی، ایڈوائزر ہوم، سیکریٹری ہوم اور آئی جی پولیس عباس احسن نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ سال 2024 سے ستمبر 2026 تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور شہریوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس عرصے کے دوران مسلح افواج کے 1,003 اور پولیس کے 627 اہلکار جبکہ 808 شہری شہید ہوئے۔ صرف جاری سال 2026 کے پہلے نو ماہ (ستمبر تک) میں 255 فوجی، 302 پولیس اہلکار اور 304 شہری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ دوسری جانب فورسز نے نامساعد حالات کے باوجود گزشتہ 3 سالوں میں 3,788 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔

بریفنگ کے دوران گزشتہ حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی اور بتایا گیا کہ سابق حکومت نے ضم شدہ اضلاع کے لیے کل سیکیورٹی بجٹ کا صرف 3.2 فیصد مختص کیا۔پولیس میں 10,587 اور سی ٹی ڈی (CTD) میں 638 اہلکاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیس کے پاس 36 فیصد آپریشنل گاڑیوں کی کمی ہے، جبکہ صرف 12 فیصد فورس کو اینٹی ڈرون سسٹم میسر ہے۔ پولیس میں ضم ہونے والے 15,186 خاصہ دار اہلکاروں میں سے اکثریت ناخواندہ ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے منظور شدہ 6.4 ارب روپے میں سے صرف 1 ارب روپے جاری کیے جا سکے۔

صوبے میں امن و امان کے قیام اور فورسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ‘مضبوط خیبرپختونخوا’ کے تحت 70 ارب روپے مختص کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے (جس میں سے 59.8 ارب روپے پولیس اور 10.3 ارب روپے سی ٹی ڈی کو دیے جائیں گے)۔ یاد رہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں مجموعی طور پر صرف 98 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے۔

پولیس کی فورٹیفکیشن کو 75 فیصد، نگرانی کی صلاحیت کو 15 سے بڑھا کر 60 فیصد، اور نائٹ فائٹنگ کی صلاحیت کو 18 سے 50 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔

 پولیس کی انسدادِ ڈرون صلاحیت 1 سے 50 فیصد، سی ٹی ڈی گاڑیوں کی آرمر (بکتر بند) صلاحیت 16 سے 70 فیصد اور جیمرز کو 3 سے 50 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

 سی ٹی ڈی کا دائرہ کار تمام 34 اضلاع تک پھیلانے، 10 اضلاع میں ‘ڈسٹرکٹ نرو سینٹرز’ اور ‘سیف سٹیز اتھارٹی’ کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ فورس میں نفری کی کمی کا تناسب 15 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد پر لایا جائے گا۔

دہشت گردوں کے فوری خاتمے اور گواہوں کے تحفظ کی ضمانت کے لیے ‘انسدادِ دہشت گردی فیس لیس عدالتیں’ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

 سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور من گھڑت بیانیے کے توڑ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز کی تعیناتی کی جائے گی، جبکہ صوبے کے بڑے شہروں کے 406 تھانوں میں ‘سمارٹ فرنٹ ڈیسک’ قائم کیے جائیں گے۔

تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ریزولیوشن کمیٹیوں ، ٹرائبل لائزن کمیٹیوں، ماہانہ کھلی کچہریوں اور باقاعدہ جرگوں کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا

سیکیورٹی فورسز کا مورال بلند رکھنے کے لیے ‘شہداء پیکج’ اور ‘سیکیورٹی چیلنج الاؤنس’ میں خاطر خواہ اضافے کی تجویز بھی منظور کی گئی ہے۔