ایف آئی آر کے اندراج کے بعد آزاد ڈیجیٹل کےخلاف منظم سوشل میڈیا مہم بے نقاب
ایف آئی آر میں پانچ افراد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نامزد ، نوید احمد عباسی، انعام الحق، ولید احمد عباسی، کامران عباسی اور ایک نامعلوم فیس بک اکاؤنٹ شامل
فائل فوٹو
اسلام آباد: آزاد ڈیجیٹل گروپ کے سی ای او محمد مصور عباسی کی درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اسلام آباد نے ابتدائی انکوائری مکمل کرنے کے بعد مقدمہ نمبر 204/2026 درج کر کے ایف آئی آر کاٹ دی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق سوشل میڈیا پر آزاد ڈیجیٹل اور اس کے سربراہ کے خلاف منظم، توہین آمیز، گمراہ کن اور دھمکی آمیز مواد پھیلایا جا رہا تھا۔
ایف آئی آر میں پانچ افراد اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اس مہم میں نامزد کیا گیا ہے، جن میں نوید احمد عباسی، انعام الحق، ولید احمد عباسی، کامران عباسی اور ایک نامعلوم فیس بک اکاؤنٹ شامل ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق فیس بک پیجز اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے شکایت کنندہ کے خلاف تضحیک آمیز، اشتعال انگیز اور کردار کشی پر مبنی مواد پھیلایا گیا۔
مختلف سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے آزاد ڈیجیٹل کے سربراہ کو دھمکیاں دی گئیں، ہراساں کیا گیا اور ان کی ساکھ، عزت اور پیشہ ورانہ حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
ایک ملزم نے شکایت کنندہ کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے اس کے ساتھ توہین آمیز اور اشتعال انگیز تبصرے بھی شائع کیے۔
یہ مقدمہ پیکا (PECA 2016) کی دفعات 20، 24 اور 26A کے ساتھ ساتھ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 506 (دھمکیاں دینے) اور 109 (جرم میں معاونت) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ مہم میں ملوث دیگر ممکنہ افراد کے کردار کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔
اس واقعے کے بعد یہ سنجیدہ سوالات سامنے آتے ہیں کہ کیا سیاسی اختلاف یا صحافتی اداروں پر تنقید کے نام پر کسی کی عزت، ساکھ اور پیشہ ورانہ آزادی کو نشانہ بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ اگرچہ آزادیِ اظہار ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن اس کی آڑ میں مبینہ دھمکیوں، ہراسانی اور کردار کشی کو ہرگز جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اب این سی سی آئی اے کی تفتیش میں یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس منظم سوشل میڈیا مہم کے پسِ پردہ کون سے عناصر ملوث تھے اور اس کا بنیادی مقصد کیا تھا۔