ملیر جیل میں 4 گھنٹے کے رینجرز آپریشن میں کیا ملا؟
آپریشن کے باعث کسی قیدی کو پیشی پر نہیں بھیجا گیا۔ملاقاتوں پر بھی پابندی رہی
3 جنوری 2019 کو رینجرز کے اہلکار ملیر جیل میں ایک بیرک کی تلاشی لے رہے ہیں
کراچی کی ملیر جیل میں سندھ رینجرز نے 4 گھنٹے تک آپریشن کیا ہے جو صبح 8 بجے شروع ہوا اور دوپہر 12 بجے ختم ہوگیا۔
جیل حکام کے مطابق یہ آپریشن جیل انتطامیہ کی درخواست پرکیا گیا۔ ملیر جیل میں چار ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں جن میں دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز بھی موجود ہیں۔ جیل پولیس نے اپنی نفری ناکافی ہونے پر رینجرز کی مدد لی۔
آپریشن کے دوران کسی قیدی کو پیشی کے لیے عدالت نہیں بھیجا گیا۔ کسی کو قیدیوں سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔
آپریشن کے دوران رینجرز اہلکاروں نے بیرکس کی تلاشی لی اور قیدیوں کے سامان کا بھی جائزہ لیا۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران کوئی ممنوعہ چیز برآمد نہیں ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن شہر میں حالیہ دہشنگردی کے واقعات کی پیش نظر کیا گیا۔ اس دوران قیدیوں سے ملنے والوں کے ریکارڈ کی چھان بین بھی کی گئی۔