شیخ حذیفی 43 برس سے اس عہدے پر فائز- احمد کو پچھلے برس یہ اعزاز ملا۔فائل فوٹو
شیخ حذیفی 43 برس سے اس عہدے پر فائز- احمد کو پچھلے برس یہ اعزاز ملا۔فائل فوٹو

مسجد نبویؐ کی امامت پر فائز خوش نصیب باپ اور بیٹا

ضیاء چترالی:
رسول اقدسؐ کے منبر اور مسجد نبویؐ کی محراب کا وارث بننا یقینا دنیا کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ حرمین شریفین کے ائمہ کرام کو جو مقام عز وشرف حاصل ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔ ایسے میں ایک ایسا خوش نصیب گھرانہ بھی ہے، جس میں بیک وقت مسجد نبویؐ کے دو امام ہیں۔ باپ کو بھی یہ اعزاز حاصل اور بیٹے کو بھی۔ یہ ہے حرم مدنی کے سب سے سینئر امام و خطیب فضیلۃ الشیخ علی بن عبد الرحمن الحذیفی کا گھرانہ۔

شیخ حذیفی کو 43 برس قبل چھ جمادی الآخر سن 1399ھ کو مسجد نبویؐ میں امام وخطیب منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے دو برس بعد رمضان المبارک 1401ھ میں شیخ موصوف مسجد الحرام میں امام مقرر ہوئے، پھر سال1402ھ میں انہیں دوبارہ مسجد نبویؐ کا امام وخطیب مقررکر دیا گیا اور اس وقت سے شیخ مستقل مسجد نبویؐ میں امام وخطیب کے عہدے پرفائز ہیں۔ شیخ حذیفی کو مسجد نبویؐ کی دستیاب تاریخ میں یہ اعزاز حاصل ہے ہوا ہے کہ ان کے بیٹے احمد بن علی الحذیفی کو بھی مسجد نبوی کا امام مقرر کیا گیا۔ گزشتہ دنوں حسن اتفاق سے شیخ علی حذیفی اور ان کے صاحبزادے احمد حذیفی نے مسجد نبویؐ میں ایک ساتھ نماز تہجد کی امامت کرائی۔ دونوں باپ بیٹے کی مسجد نبوی میں ایک نماز کی امامت کرانا دلچسپ اتفاق ہے۔ پچھلے برس بھی ایک آدھ مرتبہ ایسا ہوا تھا۔

شیخ علی الحذیفی کی عمر 76 برس ہے، وہ اب ضعف کی وجہ سے تراویح نہیں پڑھا رہے۔ صرف فرض نمازوں کی امامت کراتے ہیں۔ رمضان میں صرف نماز مغرب پڑھاتے ہیں۔ 25 اور 28 رمضان کی رات بھی دونوں باپ بیٹے یکجا نماز پڑھائیں گے۔ مسجد نبویؐ میں آئمہ اور مؤذنین کے انتظامی امور کے ادارے کی طرف سے ٹویٹر پر جاری ایک بیان 22 رمضان المبارک کی رات مسجد نبوی میں نماز تہجد کی امامت کے لیے آئمہ کا شیڈول جاری کیا گیا۔ اس شیڈول میں یکے بعد دیگر دونوں باپ بیٹے کو امامت کے فرائض انجام دینا تھے۔ پہلی رکعات میں الشیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمان الحذیفی کو امامت کی ذمہ داری سونپی گئی۔

دوسری اور تیسری تسلیمات میں الشیخ ڈاکٹر خالد بن سلیمان المہنا اور آخری تسلیمات اور وتر کے لیے الشیخ الحذیفی کے صاحب زادے الشیخ ڈاکٹر احمد علی الحذیفی کو امامت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ علامہ علی الحذیفی اور احمد الحذیفی 25 اور 28 رمضان المبارک کی رات کو بھی مسجد نبوی میں تہجد کی نمازوں کی امامت کریں گے۔ ان نمازوں میں ڈاکٹر خالد بن سلیمان المہنا بھی امامت کے فرائض انجام دیں گے۔ مسجد نبویؐ کی صدارت عامہ برائے انتظامی امور کی طرف سے احمد الحذیفی کو 1438ھ کو مسجد نبوی میں تراویح کی نماز کی امامت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کے بعد وہ سنہ 1439ھ، 1440ھ اور 1441ھ کو مسجد قبا سے مسجد نبوی میں امامت کے لیے لایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ الشیخ علی الحذیفی کا شمار عالم اسلام کے نامور قرائے کرام میں ہوتا ہے۔ بعض اہل فن کا دعویٰ ہے کہ اس وقت روئے زمین میں سب سے بہترین حدر پڑھنے والے شیخ علی الحذیفی ہیں۔ ان کی تلاوت کی ریکارڈنگ پوری دنیا میں نشر کی جاتی ہے۔ شیخ حذیفی کا آہستہ اور ترتیل کے ساتھ تلاوت قرآن کا طریقہ بہت معروف ہے، جِسے بہت شوق سے سنا جاتا ہے۔ شیخ حذیفی رسول کریمؐ کی مسجد کے سب سے سینئرامام وخطیب ہیں۔

مسجد حرام کے سابق امام شیخ عادل الکلبانی کا کہنا ہے کہ شیخ حذیفی حرمین شریفین کے سب سے عمدہ قاری ہیں۔ وہ رسول اقدسؐ کی قائم کردہ مسجد قبا میں بھی امام رہ چکے ہیں۔ یہ اعزاز ان کے بیٹے احمد حذیفی کو بھی حاصل ہے۔ الشیخ علی عبد الرحمٰن الحذیفی اپنے علم و فضل اور نیکی وتقویٰ کے حوالے سے عالم اسلام کی معروف شخصیت ہیںاور قرآن کریم کی تلاوت میں ان کا سوز وگداز بطور خاص لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں ان کی عقیدت و محبت ابھارنے کا باعث ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبویؐ میں کسی نماز کی ادائیگی ایک مسلمان کیلیے بذات خود بہت بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے، لیکن مشاہدہ ہے کہ کسی جہری نماز کی تکبیر تحریمہ میں الشیخ علی الحذیفی کی آواز سن کر نمازیوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں کہ آج ان کی زبان سے قرآن کریم سن کر نماز کا لطف دوبالاہو جائے گا۔

مدینہ منورہ کے شہری شیخ الحذیفی سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔1433ھ(2012ء )میں جب ایک سال بعدشیخ حذیفی نماز فجر پڑھانے کیلئے آئے تو لوگوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نماز میں شیخ نے سورئہ رحمٰن کی ایسی پرسوز تلاوت کی کہ نمازی دھاڑیں مارمار کر رونے لگے۔ شیخ عبدالرحمٰن بن علی بن احمد الحذیفی کا تعلق قبیلہ عوامر کی شاخ آل حذیفہ سے ہے اور عوامر بنی خثعم کی ایک شاخ ہے، عوامر قبیلے کے افراد مکہ مکرمہ کے جنوب میں ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر آباد ہیں۔ شیخ حذیفی سال1366ھ میں عوامر علاقے قرن مستقیم قصبے میں ایک دینی گھرانے میں پیدائش ہوئی۔ باقی ان کی زندگی پر ہم چند برس قبل دو قسطوں میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔