”غزہ اورمغربی کنارہ ہماراہے،فلسطینی یہاں مہمان”۔اسرائیلی وزیرکا اشتعال انگیزبیان

اسرائیلی وزیر ثقافت اور حکمران لیکود پارٹی کے رکن مکی زوہر نے اشتعال انگیز بیانات میں کہا ہے کہ غزہ اسرائیل کا حصہ ہے اور اس سیکٹر میں فلسطینیوں کی حیثیت مہمان کی ہے جنہیں اسرائیلی حکام نے وہاں عارضی طور پر رہنے کی اجازت دی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انہوں نے اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو ایک انٹرویو میں مزید کہاکہ ہم انہیں صرف ایک مخصوص وقت کے لیے وہاں مہمان کے طور پر رہنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن غزہ ہمارا ہے۔انہوں نے مغربی کنارے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعوی کیا کہ یہودی و سامری کا تعلق بھی اسرائیل سے ہے۔ اور مزید کہاکہ ہم اپنی زمین پر قابض نہیں ۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں خواہ وہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ ہوں یا غیر مجاز۔ اسرائیلی سرکاری ذرائع کے مطابق مشرقی یروشلم میں 3لاکھ 70ہزارفلسطینی اور 2لاکھ 30ہزارسے زیادہ اسرائیلی آباد ہیں۔

امریکہ غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے زور دے رہا ہے جس میں تباہ شدہ فلسطینی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلاء اور تعمیرِ نو کے آغاز کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل مغربی کنارے میں مزید آبادیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگست میں اسرائیلی سول انتظامیہ نے یروشلم کے مشرق میں 12 مربع کلومیٹر کے رقبے پر ایک نئے "ای ون” منصوبے کی منظوری دی۔ فیصلے کے متن کے مطابق یہ منصوبہ معالے عدومیم جس کے بعض حصے العیزریہ قصبے کی زمینوں پر تعمیر کیے گئے تھے، کو یروشلم شہر سے ملا دے گا۔ یوں مشرقی یروشلم مؤثر طریقے سے فلسطینی علاقوں سے الگ ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔