آزاد عدلیہ کے بغیر ملک میں انصاف کا قیام ممکن نہیں،سہیل آفریدی

اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک ایک انتہائی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، جس کے بعد صرف تباہی نظر آتی ہے۔ اسلام آباد بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے بغیر ملک میں انصاف کا قیام ممکن نہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد آئین و قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی بحالی کے لیے ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ تین ججز کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا جو عدلیہ کی کھلی تضحیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انصاف کا معیار دوہرا ہو چکا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ عمران خان جیل میں رہ کر پوری قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ اپنی رہائی نہیں بلکہ انصاف اور فیئر ٹرائل کی بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کی حقیقی آزادی کی تحریک دراصل جمہوریت اور آئین کو مضبوط بنانے کی جدوجہد ہے۔

سہیل آفریدی نے عدت اور توشہ خانہ کے مقدمات کو تاریخ کے بدترین سیاسی مقدمات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تماشہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ عدلیہ اور عوام کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب قیادت کو نشانہ بنانا پورے نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک شخص پوری قوم کی جنگ لڑ رہا ہے تو سب کو متحد ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف گزشتہ تین برسوں سے مسلسل جبر اور انتقام کا سامنا کر رہی ہے اور اگر مزاحمت نہ کی گئی تو یہ ظلم کبھی نہیں رکے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حق اور سچ بولنے والے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ڈاکٹر معید پیرزادہ اور صابر شاکر سمیت دیگر صحافیوں کے خلاف کارروائیاں آزادی اظہار پر حملہ ہیں، صحافیوں کو ملک کے اندر اور باہر بھی سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے نام پر جبر مسلط کیا جا رہا ہے اور با ضمیر شخص 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف ضرور کھڑا ہوگا۔ سہیل آفریدی نے ناحق قید تمام سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے متفقہ طور پر ملٹری آپریشن کی مخالفت کی ہے کیونکہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس ملک کے لیے ہمارے بڑوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں، اگر آج وکلاء اور ججز آئین اور آزاد عدلیہ کے لیے نہ اٹھے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔