فاطمہ مہاجرانی۔ تصویر: مہر نیوز ایجنسی

ایران میں2 درجن اموات کی خبریں۔معاشی اصلاحات کا اعلان۔مظاہرین سے معاہدوں کا دعویٰ

ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران 2 درجن سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیاہے۔ ایرانی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوزایجنسی نے کہا ہے کہ 1200سے زائد گرفتاریاں بھی ہوچکی ہیں۔ادھرایرانی حکومت کےذرائع کا کہناہے کہ ملک میں مظاہرین کے ساتھ معاہد ے طے پاگے ہیں اور بالخصوص تاجروں نے احتجاج ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔انٹرنیٹ بحال کردیاگیاہے اور صورت حال مستحکم ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی فنڈنگ کا پردہ بھی چاک ہوگیاہے۔پارلیمنٹ نے نئے بجٹ میں معاشی اصلاحات کی بھی منظوری دی ہے۔حکومت نے سبسڈی بڑھانے کا بھی اعلان کیاہے۔

مظاہرے جو ابتدا میں ہڑتالوں اور مزدوروں سے متعلق اجتماعا ت جیسے تھے، مسلسل نویں دن ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے۔ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوزایجنسی(ہرانا) نے بتایاہے کہ تازہ ترین معلومات کے مطابق9دنوں کے احتجاج میں کم از کم 29 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان میں سے2 قانون نافذ کرنے والے سیکورٹی فورسز سے وابستہ تھے۔ مزید برآں، شہریوں کے زخمی ہونے کے 64 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر پیلٹ اور ربڑ کی گولیوں سے مضروب ہوئے۔

برطانوی نشریاتی اداروں نے بھی 20 سے زائد ہلاکتوں کاحوالہ دیاہے۔

ہراناکے مطابق فارس نیوز ایجنسی،نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 250 پولیس اہلکار اور 45 بسیج کے ارکان زخمی ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پرزخمی فوجیوںاور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعداد 314 تک پہنچ گئی ہے۔حالیہ دنوں میں، 27 صوبوں کے 88 شہروں میں کم از کم 257 مقامات پر احتجاجی اجتماعات دیکھنے میں آئے۔، کم از کم1203احتجاج کرنے والے شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم اصل تعداد نمایاں طور پر زیادہ بتائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: ہم ایرانی عوام کے ساتھ ہیں، اسرائیلی وزیراعظم ۔مظاہروں پرپہلا باضابطہ بیان

ایرانی وزارت خارجہ کی ایک بریفنگ میں کہا گیاہے کہ حالیہ ہفتوں میں، کاروباری اور تجارتی حلقوں نے کرنسی اچانک مہنگی ہوجانے پر احتجاج کیا ہے۔ حکومت نے ان مظاہروں کو فوری طور پر تسلیم کیا اور متعلقہ حکام کے ذریعے مظاہرین سے بات چیت کی، خاص طور پر صدر نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا، اور ان کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے معاہدے طے پا گئے۔دشمن عناصرنے جو ملک بھر میں عدم تحفظ اور عدم استحکام پیدا کرنے کے موقع کی تلاش میں ہے، سائبر اسپیس کے ذریعے متعدد عناصر کو اکسایا اور پھر اسرائیلی حکومت اور امریکہ کی طرف سے مظاہرین کی حمایت کے اعلان کے ساتھ ہی وہ کچھ چھوٹے شہروں میں کچھ لوگوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوگئے۔

سیکورٹی فورسز کی بروقت موجودگی سے صورت حال پر قابو پایا گیا اور مظاہرین کے مرکزی گروپ، بنیادی طور پرتاجروں، نے اپنے جائز احتجاج کے اختتام کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ بحال کر دیاگیا ہے۔ سیکورٹی اور سائبر سیکورٹی کے تحفظات کی وجہ سے رفتار میں کچھ عارضی کمی برقرار ہے۔جائزمظاہرین کے قانونی حقوق تسلیم کرتے ہوئے، حکومت نے تجارتی تنظیموں اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کے ساتھ تعمیری بات چیت کا آغاز کیا ہے، جس نے صورتحال کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کچھ شہروں میں، چند محدود غیر قانونی مظاہروں کے کمزور واقعات مختصر طور پر سامنے آئے لیکن تیزی سے منتشر ہو گئے۔کئی دیگر شہروں میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل نگرانی میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے۔خاص طور پر،جائز مظاہرین کے ذمہ دارانہ طرز عمل اور چوکسی، خاص طور پر قانونی تقاضوںکا احترام کرنے کے عزم نے،بدامنی میں اضافہ روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اسرائیلی حکومت اور امریکہ دھوکے باز عناصر کو اکسانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گرفتارکیے گئے چند فسادیوں نے بیرون ملک سے رقم کے عوض غیر ملکی ایجنسیوں سے روابط رکھنے کا اعتراف کیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ نے بجٹ کے اہداف کی منظوری دی ہے جس کے تحت معاشی اصلاحات پرووٹنگ کے ذریعے تنخواہوں میں 43 فیصد تک اضافہ، ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اضافہ نہ کرنے ،الیکٹرانک واؤچرز کے ذریعے ضروری اشیا خریدنے کے لیے ترجیحی کرنسی میں 8.8 بلین ڈالر فنڈز، گارنٹی شدہ گندم کی خریداری کے لیے فنڈنگ، اور پنشننز کے لیے وسائل مختص کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔
اصلاحات کی حمایت میں 171 ووٹ ڈالے گئے، مخالفت میں69 ارکان کی رائے آئی۔

مہرنیوزایجنسی کے مطابق حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ہر فرد کے لیے سبسڈی 10 لاکھ ریال سے بڑھاکر 10 ملین ریال(10 ڈالر) ماہانہ کردی ہے۔ترجمان نے نوٹ کیا کہ سبسڈی نقد میں تقسیم نہیں کی جائے گی، اس کے بجائے یہ ان کے کریڈٹ کارڈز میں جمع کر دی جائے گی، جس کے ذریعے وہ اشیائے ضروریہ خرید سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کریڈٹ، 10 ملین ریال، ہر ماہ گھرانوں کے کھاتوں میں جمع کرایا جائے گا۔ان کے مطابق، نئی اسکیم 10 جنوری 2026 سے لاگو ہو جائے گی۔تمام شہریوں کو نئی اقتصادی اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔صدارتی حکم نامے کے مطابق تمام ایرانی شہریوں کو 10 جنوری سے سرکاری سبسڈی مل جائے گی۔
مہاجرانی نے مزید بتایاکہ یہ فنڈز شہریوں کو ملک کے2 لاکھ 68 ہزارسیلز سینٹرز سے 11 ضروری اشیا آسانی سے حاصل کرنے کی اجازت دیں گے، جن میں دودھ، پنیر، دہی، سرخ گوشت، چکن، کوکنگ آئل، پاستا، چاول، چینی اور پھلیاں شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چار ماہ کے بعد، مختص فنڈز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔