فائل فوٹو
فائل فوٹو

خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: اک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں  دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی اہم پریس کانفرنس میں سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے  خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، یہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد ہے، اور میں درخواست کروں گا کہ ہم انسداد دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے۔

دنیا کی کوئی طاقت ہمیں دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتی

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں آئینی اور قانونی حکم ہے کہ پاکستان اور اس کی ٹیریٹری کی حفاظت کریں،پاکستان کے ٹیکس پیئر کا حلال کا پیسہ اس جنگ پر لگ رہا ہے،یہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں،اس قابض گروہ سے سکیورٹی مانگ رہے ہیں، جنہوں نے دنیا بھر کے دہشتگرد جمع کئے۔

ان کاکہناتھا کہ دہشتگردی کیخلاف قومی جنگ ایک ساتھ لڑناہے، جیتنا ہے،دنیا کی کوئی طاقت ہمیں یہ جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتی،پی ٹی آئی قیادت ہر فورم پر دہشتگردی کیخلاف آپریشنز کی مخالفت کررہی ہے،ہمارے نزدیک دہشتگرد کا کوئی رنگ یا شیڈ نہیں،ہم حق پر ہیں اور حق نے غالب آنا ہے،ہم حق پر ہیں اور حق ان شااللہ غالب ہے۔

خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کیلئے استعمال کرتےہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ چیونٹیوں کی لمبی لمبی قطاروں کی طرح ان کی تشکیلیں آتی ہیں،حسن خیل میں 12دہشتگرد مارے گئے،خارجی امجد کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے مارا گیا،دہشتگرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں ، ڈھیر کردیئے جاتے ہیں،ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کاکہناتھا کہ خارجیوں نے مسلح آرمڈکاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں،خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے،سرویلینس کیلئے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے،خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کیلئے استعمال کرتےہیں،خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بن کر دہشتگردی کرتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہاکہ فوج صرف دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے،سمبازہ میں کواڈ کاپٹر کا استعمال کیاگیا کیونکہ وہاں آبادی نہیں تھی،ہم نے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال نگرانی کیلئے کرتے ہیں، فوج کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں کرتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا،بھارت کو سبق سکھانا ضروری تھا،دہشتگردوں کو بھارت سے مالی معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔

شام میں 2ہزار500 دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے

ڈی جی آئی ایس پی آر کا پریس کانفرنس میں کہناتھا کہ حال ہی میں شام میں ایک عمل داری آرڈر لایا گیا، شام میں 2ہزار500 دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے،شام سے افغانستان منتقل ہونے والے دہشتگردوں میں کوئی پاکستانی نہیں،افغان بارڈر بند کرنے سے دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی،افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طرز عمل کے مطابق منظم کیا۔

ان کاکہناتھا کہ فیک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے بھگا دیا، افغانستان خود کو اسلام  کا علمبردار بنا کر پیش کرتا ہے،افغانستان دہشتگردوں کو براہ راست سپورٹ کررہا ہے،افغانستان واراکانومی کرتاہے،واراکانومی کیلئے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی جاتی ہے،افغانستان کو واراکانومی کی عادت پڑ چکی ہے،یہ وار اکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں،ہندوستان کے پیسے اور سرپرستی پر افغانستان سے دہشتگردی ہو رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔