تہران: ایران میں مہنگائی اور کرنسی کی شدید گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے ملک کے 78 شہروں میں پھیل گئے ہیں، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئی ہیں ،احتجاج کے پہلے نو دنوں میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ مظاہرے ابتدا میں تہران کے بازار سے شروع ہوئے، جہاں ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی اور مہنگائی نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔احتجاج اب مغربی اور جنوبی ایران کے متعدد شہروں تک پھیل چکا ہے، تاہم اس کی شدت 2022-23 کے اس ملک گیر احتجاج جتنی نہیں، جو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد بھڑکا تھا۔ اس کے باوجود، حالیہ مظاہرے تیزی سے محض معاشی مطالبات سے آگے بڑھتے ہوئے حکومتی اور مذہبی قیادت کے خلاف نعرے بازی میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
کرد ایرانی حقوق تنظیم ہینگاو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار افراد 18 سال سے کم عمر ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کے نیٹ ورک HRANA کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 29 ہو چکی ہے، جن میں دو قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ گرفتار افراد کی تعداد 1203 تک پہنچ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد جاری نہیں کی، تاہم یہ تسلیم کیا ہے کہ کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کی مسلسل گراوٹ عوامی غصے کو مزید بھڑکا رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی واضح اور فوری ریلیف سامنے نہیں آ سکا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos