وائٹ ہاوس۔ فائل فوٹو

گرین لینڈ پر بھی فوجی کارروائی ممکن ہے،وائٹ ہاوس۔نیٹو بکھرنے کا خطرہ

سینئر امریکی حکام کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے مشیر گرین لینڈ  حاصل کرنے کے لیے بہت سے طریقوں پر بات کر رہے ہیں، جس میں ڈنمارک سے علاقہ خریدنا یا جزیرے کے ساتھ آزادانہ وابستگی کا معاہدہ شامل ہے اور فوجی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو استعمال کرنا ہمیشہ ایک آپشن ہوتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کو قومی سلامتی کی ترجیح سمجھتے ہیں اور اپنی موجودہ مدت کے دوران ایسا کرنا چاہیں گے۔

ایک سینئر اہلکار نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا مسئلہ ٹلنے والا نہیں ، اور یہ کہ ٹرمپ نیٹو کے بعض رہنماؤں کے اعتراضات کے باوجود معاہدے تک پہنچنے کے لیے بے چین ہیں۔

سی این این کا کہناہے کہ وینزویلا کے بعد ، ٹرمپ کی فہرست میں ڈنمارک کے زیراقتدار خود مختار علاقے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی بار بار خواہش نمایاں ہے۔وینزویلا کے تناظر میں صورت حال نے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات کو کشیدہ کر دیا ہے۔ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہےکہ کوئی امریکی حملہ نیٹو اتحاد کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔

بی بی سی نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا بیان یورپی رہنماؤں کے ڈنمارک سے اظہاریک جہتی کے چند گھنٹے بعد جاری کیا گیا۔6 یورپی اتحادیوں نے ایک مشترکہ بیان میں ڈنمارک کی حمایت کی۔برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، سپین اور ڈنمارک کے رہنماؤں نے کہا کہ گرین لینڈ اس کے لوگوں کا ہے، اور صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ ہی اپنے معاملات پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ آرکٹک میں امریکہ کی طرح دلچسپی رکھتے ہیں، مشترکہ بیان کے یورپی دستخط کنندگان کا کہناتھا کہ ایساکوئی بھی مقصد نیٹو اتحادیوں کے ذریعے اجتماعی طورپر حاصل کرنا چاہیے۔انہوں نے خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سرحدوں پراقوام متحدہ چارٹر کے اصولوں کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے اس بیان کا خیرمقدم کیا اور باعزت مذاکرات پر زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔